ناکامی اور کامیابی: زندگی کے خواب پورے کرنے کی 4 سچی کہانیاں
میرے ایک دوست نے مجھ سے ایک بار کہا تھا کہ زندگی میں سب سے خطرناک چیز یہ ہے کہ آپ کو پتا ہو کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔ میں نے ہنس کر پوچھا کیوں؟ اس نے کہا کیونکہ پھر آپ کے پاس کوئی بہانہ نہیں بچتا۔
وہ بات مجھے کئی سال بعد سمجھ آئی۔
ہم میں سے اکثر لوگ ایک عجیب کیفیت میں جیتے ہیں۔ نہ پوری طرح مطمئن، نہ اتنے ناخوش کہ کچھ بدلیں۔ بس ایک درمیانی حالت جہاں دن گزر جاتے ہیں اور ہم سوچتے رہتے ہیں کہ کل سے کچھ کریں گے۔ کل سے شروع کریں گے۔ کل والا کل کبھی نہیں آتا۔
یہ مضمون کوئی نسخہ نہیں ہے۔ میں آپ کو یہ نہیں بتاؤں گا کہ پانچ قدم اٹھاؤ اور زندگی بدل جائے گی۔ میں بس کچھ لوگوں کی باتیں کرنا چاہتا ہوں جن سے میں ملا یا جن کے بارے میں سنا، اور کچھ اپنی باتیں بھی جو میں عرصے سے کہنا چاہتا تھا۔ زندگی کے خواب کا سفر اکثر ناکامی اور کامیابی کے درمیان گزرتا ہے۔
عالیہ —– جس نے خواب چھپا کر رکھا
عالیہ سے میری پہلی ملاقات ایک شادی میں ہوئی تھی۔ وہ کسی کے ساتھ بات نہیں کر رہی تھی، بس ایک کونے میں بیٹھی چائے پی رہی تھی اور کسی کتاب کے صفحات الٹ رہی تھی۔ شادی میں کتاب لانے والے لوگ عام طور پر دلچسپ ہوتے ہیں، اس لیے میں نے بات کی۔
عالیہ کی عمر اس وقت چھتیس سال تھی۔ ملتان کی رہنے والی تھی، دو بچوں کی ماں، شوہر سرکاری ملازم۔ باہر سے ایک بالکل عام زندگی۔ مگر بات کرتے کرتے پتا چلا کہ وہ گزشتہ چار سالوں سے چپ چاپ ایک کام کر رہی ہے — وہ بچوں کے لیے کہانیاں لکھتی ہے اور اپنے محلے کے بچوں کو پڑھ کر سناتی ہے۔
میں نے پوچھا تو شائع کیوں نہیں کراتیں؟ وہ ایک لمحے کے لیے چپ رہی پھر بولی کہ کبھی سوچا نہیں کہ یہ اتنی بڑی بات ہے۔ یہ تو بس ایسے ہی ہوتا ہے۔
مجھے لگا کہ یہ جواب بہت عام ہے مگر پھر سوچا کہ نہیں۔ عالیہ نے چار سال تک ایک کام کیا بغیر کسی سے داد مانگے، بغیر کسی کو بتائے، بغیر کسی بڑے مقصد کے۔ بس اس لیے کہ اسے اچھا لگتا تھا۔
کیا یہ کوئی بڑی کامیابی ہے؟ نہیں۔ کیا عالیہ کسی نے مشہور ہوئی؟ نہیں۔ اس کی کہانیاں چھپی ہیں؟ ابھی تک نہیں۔ مگر ہر جمعے کو دوپہر دو بجے اس کے گھر کے باہر سات آٹھ بچے بیٹھتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں کہ آج کی کہانی کیا ہوگی۔
خواب کو مشہور ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ خواب کو سچا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اور سچا خواب وہ ہوتا ہے جو آپ تب بھی کریں جب کوئی دیکھ نہ رہا ہو، کوئی تعریف نہ کر رہا ہو، کوئی فرق نہ پڑ رہا ہو۔

آمنہ —– جس نے غلط وقت پر شروع کیا
آمنہ کی کہانی تھوڑی مختلف ہے اور میں اسے اس لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ اس میں وہ سب کچھ ہے جو کوئی سننا نہیں چاہتا۔
آمنہ نے اپنا بیوٹی سیلون چوبیس سال کی عمر میں شروع کیا، کراچی کے ناظم آباد میں۔ شوہر نے مخالفت نہیں کی مگر مدد بھی نہیں کی۔ سسرال نے ناک بھوں چڑھائی۔ پہلے چھ مہینے اچھے گئے، پھر پڑوس میں ایک بڑا سیلون کھل گیا اور آمنہ کے گاہک وہاں چلے گئے کیونکہ وہاں AC تھا اور پارکنگ بھی۔
آمنہ نے قرضہ لے کر کمرہ بڑا کیا، AC لگوایا۔ قرضہ اتارتے اتارتے دو سال لگ گئے۔ جب قرضہ ختم ہوا تو کورونا آ گیا اور سیلون بند کرنا پڑا۔ اٹھائیس سال کی عمر میں آمنہ کے پاس ایک بند سیلون تھا، قرضے کی آخری قسطیں تھیں اور ایک چھوٹا بچہ تھا جو ابھی ڈیڑھ سال کا تھا۔
یہاں کہانی کا وہ حصہ آتا ہے جو لکھنا مشکل ہے۔
آمنہ نے سیلون دوبارہ نہیں کھولا۔
اس نے گھر سے کام شروع کیا۔ چھوٹا سا، محدود، بس قریب کی خواتین۔ آج تین سال بعد بھی وہی کر رہی ہے۔ کوئی بڑی کامیابی نہیں، کوئی خبر نہیں، کوئی سوشل میڈیا والی کہانی نہیں۔ بس ایک عورت ہے جو گھر کا کام بھی کرتی ہے اور اپنا کام بھی۔
میں نے اس سے ایک بار فون پر بات کی اور پوچھا کہ سیلون دوبارہ کھولنے کا سوچتی ہو؟ اس نے کہا پتا نہیں۔ شاید۔ ابھی اتنی ہمت نہیں۔
کیا آمنہ کی کہانی ناکامی کی ہے؟ میں نہیں جانتا۔ مگر میں یہ جانتا ہوں کہ اس نے چھوڑا نہیں۔ رکی ہے، مگر چھوڑا نہیں۔ اور شاید یہی کافی ہے ابھی کے لیے۔ ہر سفر میں ایک جگہ آتی ہے جہاں آدمی بیٹھ جاتا ہے، سانس لیتا ہے۔ یہ ہارنا نہیں ہوتا۔ آمنہ کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ناکامی اور کامیابی ہمیشہ آخری نتیجے کا نام نہیں ہوتیں۔
ارم —– اور وہ ایک جملہ جو میں نہیں بھولا
ارم کے بارے میں لکھنے سے پہلے ایک بات اپنی کرنی ہے۔
کئی سال پہلے میں نے ایک چیز شروع کی تھی جو ادھوری رہ گئی۔ ایک لکھنے کا منصوبہ تھا، کچھ چیزیں جمع کر رہا تھا، وقت نکال رہا تھا، سب ٹھیک جا رہا تھا۔ پھر ایک دن کسی نے کہا کہ اس طرح کی چیز تو پہلے سے موجود ہے، تم جو کرنا چاہتے ہو وہ نیا نہیں ہے۔ میں نے وہ منصوبہ بند کر دیا۔
بعد میں سمجھا کہ وہ ایک غلطی تھی۔ دنیا میں کوئی بھی چیز مکمل طور پر نئی نہیں ہوتی۔ ہر لکھاری لکھتا ہے جبکہ لاکھوں لوگ پہلے لکھ چکے ہیں۔ ہر گانے والا گاتا ہے جبکہ دنیا میں لاکھوں آوازیں پہلے سے موجود ہیں۔ نئی چیز وہ نہیں ہوتی جو پہلے کبھی نہیں ہوئی، نئی چیز وہ ہوتی ہے جو آپ کے انداز میں ہو۔
یہ بات مجھے ارم نے سمجھائی، بالکل انجانے میں۔
ارم اسلام آباد میں رہتی ہے، عمر بتیس سال، سرکاری دفتر میں کلرک ہے۔ اس نے تین سال پہلے شاعری لکھنی شروع کی۔ مگر کسی کو نہیں دکھائی، کسی صفحے پر نہیں ڈالی، کسی سے نہیں پوچھا کہ کیسی ہے۔ بس لکھتی رہی۔
ایک دن اس کی ایک سہیلی نے اس کی ڈائری دیکھی اور بولی کہ یہ کیا ہے؟ ارم نے کہا کچھ نہیں، بس ایسے ہی۔ سہیلی نے ایک غزل پڑھی اور کہا یہ تو بہت اچھی ہے، شائع کراؤ۔ ارم نے کہا نہیں، ابھی نہیں۔
میں نے ارم سے پوچھا کہ کیوں نہیں؟ اس نے کہا کہ جب میں لکھتی ہوں تو کسی کے لیے نہیں لکھتی۔ اگر لوگ پڑھنے لگے تو میں لکھتے وقت انہیں سوچنے لگوں گی اور پھر جو اندر سے آتا ہے وہ نہیں آئے گا۔
میں نے اس جملے کو لکھ لیا اپنے فون میں۔ کیونکہ اس میں کچھ ایسا تھا جو بہت سی باتوں کا جواب تھا۔
ارم کی شاعری کتاب میں نہیں آئی ابھی تک۔ شاید آئے، شاید نہ آئے۔ مگر ارم لکھتی رہتی ہے اور اسے اچھا لگتا ہے۔ کیا یہ کامیابی ہے؟ آپ فیصلہ کریں۔
نوید —– جو ابھی بھی راستے میں ہے

نوید میرا پرانا دوست ہے۔ ہم ساتھ پڑھے تھے پشاور میں۔ وہ پڑھائی میں اوسط تھا مگر ہر چیز میں ذہین تھا جو کتابوں سے باہر ہوتی ہے۔
اس نے انجینئرنگ کے بعد نوکری نہیں کی۔ سیدھا اپنا کام شروع کرنے کی کوشش کی۔ پہلا کام تھا موبائل فون ریپیئر کی دکان۔ چھ مہینے چلی پھر بند ہو گئی۔ دوسرا کام تھا آن لائن ٹیوشن۔ وہ بھی زیادہ آگے نہیں بڑھا۔ تیسرا کام تھا کسی کمپنی کے ساتھ فریلانسنگ، وہ کمپنی ہی ڈوب گئی۔
اس دوران تین سال گزر گئے۔ گھر میں باپ نے کہا کہ اب نوکری کر لو، بہت ہو گیا۔ نوید نے نوکری کی، ایک پرائیویٹ اسکول میں پڑھانے لگا۔ تنخواہ پندرہ ہزار تھی۔
مگر اس نے ہار نہیں مانی تھی، بس موقع کا انتظار کر رہا تھا۔ رات کو اسکول کے بچوں کے لیے ویڈیوز بناتا، یوٹیوب پر ڈالتا۔ ایک سال میں تین سو سبسکرائبر آئے۔ کچھ خاص نہیں۔
پھر اس نے ایک ویڈیو بنائی میٹرک کے ایک مشکل سوال پر، جو پاکستان کے ہر بورڈ میں آتا ہے۔ وہ ویڈیو کسی نے شیئر کی، پھر کسی نے شیئر کی، پھر کسی نے۔ تین ہفتے میں اسی ہزار ویوز آ گئے۔
آج نوید کے یوٹیوب پر ڈیڑھ لاکھ سبسکرائبر ہیں اور وہ اسکول میں بھی پڑھاتا ہے۔ نوکری نہیں چھوڑی کیونکہ اسے بچوں کو سامنے بیٹھ کر پڑھانا پسند ہے۔ یوٹیوب کی آمدنی اب تنخواہ سے زیادہ ہو گئی ہے مگر نوید اسکول نہیں چھوڑے گا، یہ اس نے مجھے خود بتایا۔
میں نے اس سے پوچھا کہ ان تین سالوں میں جب سب ناکام ہو رہا تھا تب کیا سوچتے تھے؟ اس نے کہا سچ یہ ہے کہ کئی بار لگا کہ باپ ٹھیک کہتے ہیں۔ کئی بار رات کو سونے سے پہلے سوچا کہ کیا یہ سب بیکار ہے۔ مگر صبح اٹھ کر کچھ اور سوچتا تھا۔ پتا نہیں کیوں۔ نوید کی زندگی میں ناکامی اور کامیابی دونوں نے اہم کردار ادا کیا۔
مجھے لگتا ہے کہ یہ کیوں نہیں پتا ہونا ہی اصل بات ہے۔ بہت سے لوگ اس لیے چلتے رہتے ہیں کیونکہ انہیں کوئی بڑی وجہ پتا ہوتی ہے۔ مگر کچھ لوگ اس لیے چلتے رہتے ہیں کیونکہ رکنے کا کوئی فائدہ نہیں لگتا۔ نوید دوسری قسم کا ہے اور میرے خیال میں یہ بھی ایک طاقت ہے۔
آخر میں —– ایک سوال
میں نے یہ چار لوگوں کی باتیں لکھی ہیں۔ عالیہ جو چھپ کر لکھتی ہے، آمنہ جو ابھی رکی ہوئی ہے، ارم جو دکھانا نہیں چاہتی، اور نوید جو نہیں جانتا کیوں چلتا رہا۔
ان میں سے کوئی مثالی کہانی نہیں ہے۔ کوئی ایسا نہیں جسے دیکھ کر کہیں واہ، کیا زندگی ہے۔ یہ سب عام لوگ ہیں جو اپنے اپنے طریقے سے کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کبھی آگے بڑھتے ہیں کبھی رکتے ہیں، کبھی کامیاب ہوتے ہیں کبھی نہیں ہوتے۔
حقیقت یہ ہے کہ ناکامی اور کامیابی زندگی کے سفر کا حصہ ہیں۔ اور یہی اصل زندگی ہے۔
ہم سوشل میڈیا پر جو کہانیاں دیکھتے ہیں وہ اکثر مکمل ہوتی ہیں۔ مشکل آئی، لڑے، جیتے، ختم۔ مگر حقیقت میں زیادہ تر لوگ درمیان میں کہیں کھڑے ہیں۔ نہ پوری ناکامی، نہ پوری کامیابی۔ بس چل رہے ہیں۔
اور چلتے رہنا، اپنے طریقے سے، اپنی رفتار سے، یہ بھی ایک بہادری ہے جسے ہم اکثر پہچانتے نہیں۔
میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ کوئی فلسفیانہ سوال نہیں، بس ایک سیدھی بات — آپ کی زندگی میں ایسی کونسی ایک چیز ہے جو آپ کرنا چاہتے ہیں مگر نہیں کر رہے؟ نوکری نہیں، گھر نہیں، ذمہ داریاں نہیں — وہ ایک چیز جو آپ کے لیے ہے، صرف آپ کے لیے۔
اس سوال کا جواب کسی کو دینا ضروری نہیں۔ بس خود سے پوچھیں، اور جو جواب آئے اسے سن لیں۔
باقی دیکھتے جائیں گے۔

فیصلہ کرنے کے بعد پچھتانے سے بہتر ہے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچا سمجھا جائے۔
فیصلہ کرنے کے بعد کے پچھتاوے کے لیے ہمارا یہ آرٹیکل دیکھیں۔