Spread the love

بچ جانے والوں کا فریب، وہ 1 غلطی جو ہم سب روز کرتے ہیں

دوسری جنگِ عظیم میں جو جنگی جہاز واپس لوٹتے، اُن کے پروں اور دُم پر گولیوں کے سب سے زیادہ نشان ہوتے۔ فوج نے فیصلہ کیا کہ انہی حصوں پر زیادہ حفاظتی لوہا لگاؤ۔ منطقی لگتا ہے، نا؟ ایک ریاضی دان نے کہا: “بالکل غلط۔ لوہا وہاں لگاؤ جہاں ایک بھی نشان نہیں۔”
وہ ریاضی دان تھا ابراہام والڈ۔ اور اُس کی بات نے سوچنے کا ایک پورا انداز بدل دیا۔
والڈ نے ایک ایسی بات کی طرف اشارہ کیا جو سب کی نظروں سے اوجھل تھی۔ یہ نشان صرف اُن جہازوں پر تھے جو واپس لوٹ آئے۔ یعنی پروں اور دُم پر گولی کھا کر بھی جہاز اُڑ سکتا تھا۔ مگر جو جہاز انجن یا کاک پٹ پر گولی کھاتے، وہ کبھی واپس ہی نہیں آتے۔ اِسی لیے اُن حصوں پر کوئی نشان نہیں دکھتا تھا۔ اصل کمزور جگہ وہی تھی جہاں اعداد و شمار خاموش تھے۔
اِسے بچ جانے والوں کا فریب کہتے ہیں۔ صرف کامیاب یا بچ جانے والوں کو دیکھ کر نتیجہ نکالنا، اور اُن سب کو بھول جانا جو ناکام ہو کر منظر سے غائب ہو چکے۔ ہماری سب سے بڑی غلطیاں اکثر اُس معلومات میں چھپی ہوتی ہیں جو ہمیں نظر ہی نہیں آتیں۔


ذہن کا وہ حصہ جو خاموشی نہیں پڑھ سکتا


انسانی دماغ نے لاکھوں برس یہی کیا۔ سامنے جو ہے اُسے دیکھو، اُس سے نتیجہ نکالو، بچ جاؤ۔ یہی اُس کی تربیت تھی اور یہی اُس کی مجبوری بھی۔
مگر یہی عادت اب اُلٹی پڑتی ہے۔ ہماری روزمرہ زندگی میں بھی بچ جانے والوں کا فریب ہمیں ادھوری حقیقت دکھاتا ہے۔
جب دس کامیاب لوگ سامنے ہوں تو دماغ فوراً اُن میں مشترک خوبیاں ڈھونڈنے لگتا ہے۔ اُن کا اٹھنے کا وقت، اُن کی محنت کا انداز، اُن کی سوچ کا رنگ، یہ سب کامیابی کا نسخہ بن جاتا ہے۔ مگر یہ دماغ ایک سوال نہیں پوچھتا کہ وہ ہزار لوگ کہاں ہیں جنہوں نے عین یہی کیا اور پھر بھی کہیں نہ پہنچے۔
اس لیے نہیں پوچھتا کیونکہ وہ ہزار لوگ دکھتے نہیں۔ وہ گوشوں میں ہیں۔ بے آواز ہیں۔ کسی نے اُن کا حال نہیں لکھا، کسی نے اُن کا نام نہیں لیا۔ اور یہ بے آوازی ہمارے اندر ایک ایسا ذہنی فریب بُنتی ہے جو نہ دکھتا ہے، نہ محسوس ہوتا ہے، بس اندر ہی اندر کام کرتا رہتا ہے۔


وہ کتابیں جو سچ بول کر بھی گمراہ کرتی ہیں


کاروباری دنیا میں کامیاب اداروں پر لکھی گئی کتابیں ہر سال بازار میں آتی ہیں۔ پڑھنے والا سوچتا ہے کہ یہ رہا راستہ، بس ایسا کرو اور کامیابی مل جائے گی۔
مگر جس ادارے کی کہانی لکھی جا رہی ہے، اُس نے بیس سال پہلے جو فیصلے کیے، وہی فیصلے اُس وقت کے دو سو اور اداروں نے بھی کیے تھے۔ وہ دو سو بند ہو گئے۔ تو آج اُس ایک ادارے کی جرأت اور دُور اندیشی کی جو تعریف ہوتی ہے، وہ دراصل زندہ بچ جانے کے بعد کا قصہ ہے، نہ کہ کامیابی کا اصل سبب۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ محققین نے کئی ایسی مشہور کتابوں کا جائزہ لیا جن میں کامیاب اداروں کے اصول بیان کیے گئے تھے اور پایا کہ اُن میں سے کئی ادارے چند برس بعد خود مشکلات میں آ گئے۔ یعنی کامیابی کا نسخہ رکھنے والے بھی اُس نسخے سے نہ بچ سکے۔
کتاب بک گئی، سبق پھیل گیا، اور حقیقت خاموشی سے کہیں اور چلی گئی۔ یہ غلطی کسی ایک کی نہیں، یہ غلطی اُس سوچ کی ہے جو صرف جیتنے والوں کو دیکھتی ہے۔


ایک بات جو میں نے اپنے کام میں سیکھی


ذہنی صحت کے میدان میں کام کرتے ہوئے ایک چیز بار بار نظر آتی ہے، اور سچ کہوں تو پہلے میں خود بھی اس سے بچ نہیں پایا۔
جب کوئی علاج کارگر ثابت ہوتا ہے تو ہم اُن لوگوں کو سامنے رکھتے ہیں جنہوں نے پورا علاج مکمل کیا اور بہتر ہوئے۔ مگر جو لوگ دو تین ملاقاتوں کے بعد چھوڑ گئے، وہ اُس حساب کتاب میں کہیں نہیں ہوتے۔ شاید وہ بہتر نہیں ہوئے تھے۔ شاید طریقہ اُن کے لیے موزوں ہی نہیں تھا۔ مگر چونکہ وہ درمیان میں غائب ہو گئے، نتائج بہتر دکھتے رہے۔
یہ صرف میرے کام کی بات نہیں۔ پوری طب اِس مسئلے سے دہائیوں تک جوجھتی رہی ہے۔ کئی دوائیں اُن مریضوں کی بنیاد پر مؤثر قرار دی جاتی رہیں جنہوں نے علاج پورا کیا۔ جنہوں نے بیچ میں چھوڑ دیا، وہ کبھی گنے ہی نہیں گئے۔
یہی دھوکا یہاں بھی موجود تھا، بس سفید کوٹ پہنے ہوئے۔ کاروباری دنیا میں بچ جانے والوں کا فریب اکثر غلط فیصلوں کی اصل وجہ بنتا ہے۔


خیالی دنیا کا سب سے اصلی جھوٹ


ایک نوجوان ویڈیو بناتا ہے، چھ ماہ میں دس لاکھ ناظرین ہو جاتے ہیں، پھر اشتہار آتے ہیں، پھر گاڑی آتی ہے، پھر گھر آتا ہے۔ یہ کہانی دیکھ کر دل میں یقین جاگتا ہے کہ میں بھی یہی کروں گا۔
یہ کہانی جھوٹی نہیں ہے۔ مگر ادھوری ہے۔
لاکھوں لوگوں نے ویڈیوز بنائیں، تین سال محنت کی، پیسہ لگایا، وقت دیا اور پھر ایک دن سب بند کر کے اٹھ گئے۔ اُن کی کہانی کسی نے نہیں سنائی۔ ناکامی وائرل نہیں ہوتی۔ ناکامی کے لیے کوئی تقریب نہیں ہوتی۔
تو ہم صرف وہی سنتے رہتے ہیں جو سامنے آیا اور لاکھوں وہ آوازیں نہیں سنتے جو کبھی سامنے آ ہی نہ سکیں۔ پھر اِسی ادھوری تصویر کو بنیاد بنا کر زندگی کے اہم فیصلے کرتے ہیں۔ اور جب نتیجہ غلط نکلتا ہے تو ہم خود کو قصوروار سمجھتے ہیں، جبکہ قصور اُس ناقص تصویر کا تھا جو ہم نے سچ مان لی تھی۔ بچ جانے والوں کا فریب ہماری سوچ کو اس طرح متاثر کرتا ہے کہ ہم ناکامیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔


تاریخ کا سب سے پرانا جھوٹ


اگر پوچھا جائے کہ دنیا کی سب سے قدیم تہذیبیں کون سی ہیں تو مصر، یونان، چین، وادئ سندھ کے نام ذہن میں آتے ہیں۔
مگر ٹھہریں۔
یہ قدیم ترین تہذیبیں دراصل وہ تہذیبیں ہیں جن کے نشان بچ گئے۔ جن کے پتھر مٹی میں دفن نہ ہوئے۔ جو تہذیبیں بالکل مٹ گئیں، جن کا کوئی حرف نہ رہا، وہ تاریخ میں کہیں ہیں ہی نہیں۔
یعنی ہم جسے انسانی تاریخ کہتے ہیں، وہ دراصل اُس تاریخ کا نام ہے جو بچ گئی۔ باقی سب کا نام و نشان مٹ گیا اور ہم اُنہیں موجود نہیں تھا سمجھ لیتے ہیں۔ تاریخ میں چھپی سب سے بڑی غلطیوں میں ایک اہم مثال بچ جانے والوں کا فریب ہے۔
یہ سوچ کر ایک عجیب سی بے چینی ہوتی ہے۔ جو جانتے ہیں اور جو ہوا، یہ دونوں ہمیشہ ایک نہیں ہوتے۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں سے یہ ذہنی غلطی سب سے گہری جڑیں پکڑتی ہے۔


رشتے، جوڑے، اور وہ قصے جو کبھی نہیں لکھے گئے


ہم خوش جوڑوں کو دیکھتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ سکون میں رہتے، برسوں بعد بھی ایک دوسرے کی بات دل سے سنتے ہوئے۔ اور ہم اُن کی عادتوں میں سے کامیاب رشتے کا راز تلاش کرنے لگتے ہیں۔
مگر جو جوڑے ٹھیک یہی سب کرتے رہے اور پھر بھی الگ ہو گئے، وہ ہماری نظر میں کہاں ہیں؟ وہ بھی ایک دوسرے کو وقت دیتے تھے۔ وہ بھی کوشش کرتے تھے۔ مگر رشتہ نہ نبھ سکا۔
ہم اُن ٹوٹے ہوئے رشتوں سے نہیں سیکھتے کیونکہ وہ ہماری نگاہ میں آتے ہی نہیں۔ وہ خاموش ہو گئے، الگ ہو گئے، غائب ہو گئے۔ اور پیچھے رہ گئے وہ چند قصے جو کامیاب رہے۔ اُنہی سے ہم محبت کا فارمولا بناتے رہتے ہیں جو اکثر کام نہیں آتا، اور ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ غلطی کہاں ہوئی۔


اپنے ساتھ بھی تو یہی ہوتا ہے


سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں بھی اپنے ساتھ یہی کرتے ہیں۔
جو فیصلے صحیح نکلے، وہ یاد رہتے ہیں۔ جو اندازے کام آئے، وہ یاد رہتے ہیں۔ اور اِن سب سے مل کر اپنی ایک تصویر بنتی ہے کہ میں اچھا فیصلہ کرنے والا ہوں۔
وہ فیصلے جو بُری طرح غلط نکلے؟ ذہن اُنہیں دھیرے دھیرے دھندلا کر دیتا ہے۔ وہ تو حالات کی وجہ سے ہوا۔ وہ کوئی اور وقت تھا۔ وہ استثنا تھا۔
اور یوں ہم اپنے آپ کو اُس سے بہتر سمجھتے رہتے ہیں جتنے ہم واقعی ہیں۔ پھر اُسی اعتماد کے ساتھ آگے قدم رکھتے ہیں۔ پھر وہی غلطی ہوتی ہے۔ یہاں یہ ذہنی دھوکا سب سے خطرناک روپ اختیار کر لیتا ہے کیونکہ اِس بار فریب دینے والا کوئی اور نہیں، ہم خود ہوتے ہیں۔ بچ جانے والوں کا فریب ہمیں اکثر یہ سکھاتا ہے کہ ہم صرف کامیاب لوگوں کو دیکھ کر غلط نتیجہ نکال لیتے ہیں۔


خاموشی کو پڑھنا سیکھو


اِس سوچ کی غلطی سے مکمل نجات شاید ممکن نہیں۔ مگر اِسے پہچاننا ضرور ممکن ہے اور پہچاننا اپنے آپ میں بہت بڑا قدم ہے۔
کامیابی کی کوئی کہانی سنیں تو ایک لمحے کے لیے ٹھہریں اور اپنے آپ سے پوچھیں کہ یہی راستہ اپنانے والے جو نہیں پہنچے، وہ کتنے تھے؟ وہ کہاں ہیں؟ کیا میں اُنہیں دیکھ بھی پا رہا ہوں؟
یہ سوال مایوسی نہیں دیتا۔ یہ سوال آنکھوں سے دھند ہٹاتا ہے۔
کوئی کاروبار شروع کرنے سے پہلے اُن لوگوں کو ڈھونڈیں جنہوں نے یہی کیا اور ناکام ہوئے، نہ کہ صرف اُنہیں جو کامیاب ہوئے اور اب کتابیں لکھ رہے ہیں۔ کوئی عادت اپنانے سے پہلے سوچیں کہ کیا واقعی یہ عادت کامیابی کا سبب ہے یا یہ صرف کامیاب لوگوں میں نظر آتی ہے کیونکہ ناکام لوگوں کی عادتیں کوئی نہیں گنتا۔ کوئی رشتہ سمجھنے کی کوشش کریں تو صرف کامیاب جوڑوں کی مثال نہ لیں، بلکہ اُن کی بھی بات کریں جو ہر کوشش کے باوجود نہ نبھا سکے۔
بچ جانے والوں کا فریب ہماری سوچ میں اتنا گہرا ہے کہ اکثر احساس بھی نہیں ہوتا۔ اصل سچ اکثر وہاں ہوتا ہے جہاں کوئی آواز نہیں ہوتی، جہاں کہانی نہیں لکھی گئی، جہاں نام نہیں لیا گیا۔
خاموشی کو پڑھنا سیکھنا شاید سب سے مشکل مگر سب سے ضروری ہنر ہے۔

ہمارا دماغ کے خوف کو کم کرنے والا بہترین ارٹیکل پڑھنے کے لیے یہاں پر کلک کریں

بچ جانے والوں کا فریب ہمیں یہ غلط تاثر دیتا ہے کہ کامیابی صرف انہی لوگوں کو ملتی ہے جو نظر آتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں زیادہ تر کوشش کرنے والے لوگ ناکامی کی وجہ سے منظر سے غائب ہو جاتے ہیں اور ہم انہیں دیکھ ہی نہیں پاتے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top