شادی شدہ زندگی کی مشکلات: میرا اعتراف، میری گھٹن آج کلینک میں بیٹھ کر جب میں نے ان کی طرف دیکھا، تو وہ کسی بکھرے ہوئے آئینے کی طرح لگ رہی تھیں۔ میرے ایک قریبی دوست نے انہیں میرے پاس ریفر کیا تھا۔ جب وہ کرسی پر بیٹھیں، تو انہوں نے کوئی تعارف نہیں کروایا، بس ایک گہری نظر مجھ پر ڈالی۔ ان کی آنکھوں میں ایک ایسی ویرانی تھی جسے چھپانا اب ان کے بس میں نہیں تھا۔ وہ اپنی زندگی کی سب سے کڑوی سچائیاں مجھ پر آشکار کرنا چاہتی تھیں۔ انہیں مجھ پر یقین تھا، شاید اسی لیے وہ اپنی پوری داستان سنانے کے لیے تیار تھیں۔
انہوں نے اپنی بات کا آغاز کچھ یوں کیا: ” صاحب، میں آج یہاں کسی دوا کے لیے نہیں آئی۔ میں یہ سب کیوں بتا رہی ہوں؟ شاید اس لیے کہ اب مجھ میں مزید خاموش رہنے کی ہمت نہیں رہی۔ مجھے کسی نے آپ کا نام بتایا، کہا کہ آپ میری بات سنیں گے، مجھے سمجھیں گے۔ میں اب مکمل ٹوٹ چکی ہوں۔ میرا دماغ، میرا دل، سب کچھ ایک عجیب سی گھٹن میں جکڑا ہوا ہے۔ شادی شدہ زندگی کی مشکلات کا کیا ہوتا ہے، یہ اب میں نہیں سہہ سکتی۔

ایک پرسکون بچپن کے خواب
وہ اپنی یادوں میں کھو گئیں، “میرا بچپن ایک ایسے گھر میں گزرا جہاں محبت ایک قانون تھی۔ میرے والد بزنس مین تھے، خوشحال اور روشن خیال۔ ہم نے کبھی کسی چیز کی کمی نہیں دیکھی۔ تعلیم میرا زیور تھی، میں نے سائنس میں گریجویشن کی اور میرے خوابوں کا آسمان بہت اونچا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ شادی بھی میرے اس خوشحال خواب کا ایک حصہ ہوگی۔ میں نے تصور کیا تھا کہ میرا شوہر میرے خیالات کو سمجھے گا، ہم ساتھ مل کر کتابیں پڑھیں گے، زندگی کے فلسفوں پر بحث کریں گے، اور ایک دوسرے کی شخصیت کو نکھاریں گے۔””پھر شادی کی بات چلی۔ میرے گھر والوں نے ایک ایسے رشتے کا انتخاب کیا جو بظاہر سب کے لیے بہترین تھا۔ میں نے رخصتی کے وقت پیچھے مڑ کر دیکھا تو مجھے لگا میں اپنی پوری زندگی کسی اور کے حوالے کر رہی ہوں۔ جب میں اپنے سسرال پہنچی، تو وہ گھر میرے لیے کسی اجنبی سی جگہ جیسا تھا۔ جوائنٹ فیملی سسٹم، جہاں ہر طرف بندشیں تھیں۔ وہ گھر، وہ ماحول، وہ لوگ—سب کچھ میرے معیار سے کوسوں دور تھا۔ وہاں قدم رکھتے ہی مجھے پہلی بار وہ احساس ہوا جسے ‘گھٹن’ کہتے ہیں۔
سسرال کی وہ کالی حقیقت
ان کا لہجہ اب تھوڑا تلخ ہو گیا تھا، “وہ پانچ سال، میں نے کیسے گزارے، یہ ایک الگ داستان ہے۔ سسرال کا وہ گھر جہاں ہر چیز پر جیٹھانی کا کنٹرول تھا۔ میں یاد کرتی ہوں وہ دن، جب صبح سویرے ناشتے کی میز پر جیٹھانی کی آواز گونجتی: ‘یہ تم نے کون سا لباس پہن لیا ہے؟ یہاں ایسی ڈریسنگ نہیں چلتی، گھر کی بہو بن کر رہو۔’ ان کا تیز لہجہ میرے دل پر خنجر کی طرح لگتا تھا۔””میں نے شروع میں بہت کوشش کی کہ میں ان کے رنگ میں رنگ جاؤں۔ میں نے اپنے آپ کو بدلا، اپنے کپڑے بدلے، اپنی سوچ دبائی، صرف اس لیے کہ وہ مجھے قبول کر لیں۔ یہ میری سب سے بڑی غلطی تھی۔ میں خود کو مٹا کر انہیں خوش کرنا چاہتی تھی، لیکن میں ان کے لیے کبھی ‘اپنی’ نہیں بن سکی۔ میں کچن میں جاتی، خاموشی سے کام کرتی اور جب بھی کوئی اپنی رائے دینے کی کوشش کرتی، مجھے نیچا دکھا دیا جاتا۔
شوہر کے ساتھ کا خلا
میں نے ان سے پوچھا کہ ان کے شوہر کا رویہ کیا تھا؟ وہ ایک دم خاموش ہو گئیں۔ “میرے شوہر، جنہیں میں کبھی دیوانگی کی حد تک محبت نہیں کر سکی، ایک بہت سادہ انسان ہیں۔ وہ احساس کرتے ہیں، وہ میری ضروریات پوری کرتے ہیں، لیکن ان کی طبیعت میں وہ گہرائی ہی نہیں ہے جو میری زندگی کی ضرورت ہے۔ وہ صبح اٹھتے ہیں، صابن سے منہ دھوتے ہیں، اور اپنی دکان پر نکل جاتے ہیں۔ ان کی دنیا کا محور صرف کاروبار ہے۔””کئی بار میں نے انہیں اپنے دل کی بات بتائی: ‘دیکھیں، میں چاہتی ہوں کہ ہم ساتھ وقت گزاریں، کچھ باتیں کریں، زندگی کو محسوس کریں۔’ وہ مسکرا کر بولے: ‘تم بھی کیا باتیں کرتی ہو، میں سارا دن کام کر کے تھک کر آتا ہوں۔ میں نے تمہارے لیے یہ جوتا اور یہ سوٹ خریدا تو ہے، اور کیا چاہیے تمہیں؟’ مجھے اس وقت لگا جیسے میرے دل پر کسی نے پتھر رکھ دیا ہو۔ انہیں لگتا ہے کہ مادی چیزیں دے دینا ہی محبت ہے۔ مگر مجھے تو ان کی روح کا لمس چاہیے تھا۔
امی کا بچھڑنا اور میری تنہائی
پھر وہ وقت آیا جس نے انہیں اندر سے توڑ کر رکھ دیا، “میرے بیٹے کی پیدائش کے ایک سال بعد میں میکے آئی۔ امی کی طبیعت اچانک خراب ہوئی اور وہ ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں۔ وہ میری زندگی کا واحد انسان تھیں جن کے سامنے میں رو سکتی تھی۔ ان کے جانے کے بعد مجھے لگا جیسے زمین میرے پیروں تلے سے نکل گئی ہے۔ اب میرے ساتھ میری دو چھوٹی بہنیں تھیں۔ میرا دل نہیں مانتا کہ میں انہیں اکیلا چھوڑ کر واپس اس قبر جیسے ماحول میں جاؤں۔””میں نے ہمت کی اور اپنے شوہر سے، اور والد سے بات کی۔ میں نے کہا، ‘مجھے یہاں شفٹ ہونا ہے، میں ایک چھوٹے سے کرائے کے گھر میں رہنے کو تیار ہوں۔’ لیکن ہر کسی کا ایک ہی جواب تھا: ‘یہاں کام نہیں ہے، ہمارا کاروبار وہاں ہے، شفٹ ہونا ناممکن ہے۔’ اب میں ایک ایسے دوراہے پر ہوں جہاں مجھے اپنی خوشی اور خاندان کے دباؤ کے بیچ انتخاب کرنا ہے۔
کیا میں ایک قیدی ہوں؟
وہ اب کرسی پر تھوڑی بے چین ہو گئی تھیں، “میں سوچتی ہوں، کیا ایک عورت کی پوری زندگی صرف دوسروں کے فیصلوں کے تابع ہے؟ کیا میں اپنے بیٹے کے لیے ایک ایسا ماحول فراہم کروں جہاں ماں خود ہی خوش نہیں ہے؟ لوگ کہتے ہیں کہ صبر کرو، لیکن صبر کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے۔ پانچ سال کی گھٹن نے مجھے چڑچڑا بنا دیا ہے۔ میں اب وہ عورت نہیں رہی جو کبھی خواب دیکھا کرتی تھی۔””میں نے اسٹڈی ویزا پر ملک سے نکلنے کی دو بار کوشش کی۔ میں نے راتوں کو جاگ کر آئیلٹس کی تیاری کی۔ میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک ایسی جگہ جاؤں گی جہاں کوئی مجھے یہ نہیں کہے گا کہ ‘تم نے کیا پہنا ہے’۔ لیکن ہر بار میں ناکام رہی۔ وہ ناکامی مجھے آج بھی مارتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جیسے کائنات مجھے اسی جگہ دھکیلنا چاہتی ہے جہاں میں نہیں رہنا چاہتی۔

واپسی کا خوف اور میرا آخری اعتراف
آخر میں، انہوں نے میری طرف دیکھا، ان کی آواز میں ایک عجیب سی تھکن تھی۔ “مجھے معلوم ہے کہ کچھ دنوں بعد میں پھر اسی کچن میں ہوں گی، پھر وہی جیٹھانی کے طعنے ہوں گے، وہی شوہر کا بے حس سا چہرہ ہوگا۔ لیکن اس بار، میں وہ پرانی عورت نہیں رہوں گی۔ میں نے یہ سب اس لیے لکھا کہ شاید کوئی تو ہو جو میری اس چیخ کو سچ مانے۔ میں ایک ادھوری بیوی ہوں، ایک ٹوٹی ہوئی ماں ہوں، اور ایک ایسی بیٹی ہوں جس کے پاس اب کوئی جائے پناہ نہیں۔””میں اب مزید خاموش نہیں رہوں گی۔ میں اب مزید اپنی روح کا سودا نہیں کروں گی۔ اگر میری یہ کہانی کسی ایک بھی ایسی عورت تک پہنچ جائے جو میری طرح گھٹ رہی ہے، تو سمجھوں گی کہ میری یہ جنگ رائیگاں نہیں گئی۔ یہ شادی شدہ زندگی کی مشکلات کا وہ کرب ہے جو صرف ایک عورت ہی محسوس کر سکتی ہے۔”یہ کہانی ایک ایسی خاتون کی ہے جو آج میرے کلینک میں آئی تھی۔
یہ تحریر ایک کونسلر کے طور پر میرا ان کے ساتھ کیے گئے سیشنز کا نچوڑ ہے
یہ کوئی افسانہ نہیں، بلکہ ایک سچی اذیت ہے جو بہت سی عورتیں خاموشی سے سہہ رہی ہیں۔ اگر آپ بھی اسی طرح گھٹ رہی ہیں تو یاد رکھیں، بولنا پہلا قدم ہے، کیونکہ شادی شدہ زندگی کی مشکلات تب تک حل نہیں ہوں گی جب تک آپ انہیں تسلیم نہیں کریں گے۔ یہ تحریر ایک کونسلر کے طور پر میرا ان کے ساتھ کیے گئے سیشن کا نچوڑ ہے۔آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا ایک عورت کا اپنی خوشی کے لیے معاشرتی دباؤ کے خلاف کھڑا ہونا بغاوت ہے، یا یہ اس کا بنیادی حق ہے؟ شادی شدہ زندگی کی مشکلات کا حل کیا صرف سمجھوتہ ہے، یا خود کو دوبارہ تلاش کرنا؟ اپنے خیالات کمنٹس میں ضرور بتائیں، شاید آپ کا ایک جملہ کسی کی ہمت بڑھا سکے۔