موبائل اسکرین کی غلامی: وہ 5 خطرناک عادتیں جو آپ کی زندگی تباہ کر رہی ہیں
کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنے محلے کے ایک لڑکے کو دیکھا۔ بارہ تیرہ سال کی عمر میں چہرہ ایسا روشن تھا کہ دیکھنے والا مسکرا دے۔ شرارتی، ذہین، باتونی۔ جس گلی سے گزرتا آواز آتی تھی۔ ماں کہتی تھی یہ بچہ ایک دن کچھ بن کر دکھائے گا۔
آج وہی لڑکا ایک اندھیرے کمرے میں بند ہے۔ نہ باہر جاتا ہے، نہ کسی سے ملتا ہے۔ باتیں کرو تو آدھی بات بھول جاتا ہے، آنکھیں سرخ رہتی ہیں، چہرے پر کوئی تاثر نہیں۔ ڈاکٹروں نے نفسیاتی علاج شروع کیا ہے۔ گھر والے کہتے ہیں کچھ سمجھ نہیں آتا کیا ہو گیا اسے۔
مجھے پتہ ہے کیا ہوا۔ اس کے ہاتھ میں موبائل اسکرین آئی اور اس نے اپنی پوری زندگی اس کے حوالے کر دی۔
اور یہ صرف اس ایک لڑکے کی کہانی نہیں ہے۔ میرا اپنا کزن ہے، بائیس تئیس سال کا نوجوان۔ کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا، گھر آیا اور پھر موبائل اسکرین کے سامنے بیٹھ گیا۔ آج تک وہیں بیٹھا ہے۔ سارا دن، ساری رات، بس اسکرین۔ نہ اپنا ہوش ہے، نہ بیوی کا، نہ اپنے بچے کا۔ تین نمبر کی عینک لگ چکی ہے، جسم اتنا سوکھ گیا ہے کہ دیکھنے کو دل نہیں کرتا۔ یہ وہی لڑکا ہے جو پڑھ لکھ کر کچھ بننے کا خواب لے کر نکلا تھا، مگر موبائل اسکرین کے آگے وہ سب کچھ پیچھے رہ گیا۔
یہ کوئی دور کی کہانیاں نہیں ہیں۔ یہ ہمارے گھروں میں، ہماری گلیوں میں، ہمارے اپنوں میں ہو رہا ہے۔ بس ہم دیکھ نہیں رہے کیونکہ ہماری نظریں خود بھی موبائل اسکرین پر جمی ہیں۔
پہلی عادت: جب صبح کی پہلی سانس موبائل اسکرین کے نام ہو
صبح آنکھ کھلتے ہی جو پہلا کام ہوتا ہے وہ موبائل اسکرین چیک کرنا ہے۔ یہ پڑھ کر شاید آپ مسکرا دیں کیونکہ یہ آپ کی اپنی کہانی ہے۔ فجر یاد نہیں رہتی، صبح کی ٹھنڈی ہوا محسوس نہیں ہوتی، بس اسکرین روشن ہوتی ہے اور دن کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اور یہ آغاز ہی پورے دن کو برباد کر دیتا ہے۔
ہمارے بزرگ کہتے تھے جس نے صبح سنبھال لی اس نے پوری زندگی سنبھال لی۔ ہم وہ صبح ہر روز مفت میں لٹا دیتے ہیں۔ اللہ نے جو وقت دیا ہے اس میں سب سے قیمتی یہی صبح کے چند گھنٹے ہیں مگر ہم انہیں کسی انجان کی ویڈیو اور فضول خبروں کی نذر کر دیتے ہیں۔ پھر شکایت کرتے ہیں کہ زندگی میں کچھ نہیں ہو رہا۔
اور صرف صبح نہیں، پورا دن یہی حال ہے۔ بغیر کسی وجہ کے بار بار موبائل اسکرین اٹھانا، ہر چند منٹ بعد چیک کرنا، کوئی اطلاع نہیں آئی، کوئی کام نہیں، پھر بھی ہاتھ خود بخود موبائل کی طرف چلا جاتا ہے۔ یہ عادت نہیں رہتی، یہ بیماری بن جاتی ہے۔ اور بیماری کا علاج تب ہوتا ہے جب پہلے اسے پہچانا جائے۔
لیکن یہاں ایک بات اور کہنی ہے۔ میرا ایک اور کزن ہے، اسی نے ماسٹر کیا ہے۔ اس نے موبائل اسکرین کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا بلکہ اسے اپنی کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔ دن میں چھ گھنٹے کام کرتا ہے، گھر بیٹھ کر، اور جو کماتا ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ فرق موبائل میں نہیں تھا۔ فرق یہ تھا کہ ایک نے اسے اپنے اوپر سوار کر لیا اور دوسرے نے اسے اپنے کام میں لگا لیا۔
دوسری عادت: وہ رشتے جو موبائل اسکرین کی وجہ سے خاموشی سے مر رہے ہیں
موبائل اسکرین نے ہمیں ماں باپ سے دور کر دیا ہے اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوا کب یہ ہوا۔ گھر میں سب بیٹھے ہیں مگر کوئی کسی سے بات نہیں کر رہا۔ ماں کچھ پوچھتی ہے تو بیٹا ہاں ہوں کر دیتا ہے، نظر اسکرین پر ہے۔ باپ کوئی بات کرنا چاہتا ہے، بچے کے کان میں ایئرفون ہے۔ وہ ماں جس نے راتوں کو جاگ کر پالا، وہ باپ جس نے خود تکلیف اٹھا کر آرام دیا، آج وہ ہمارے سامنے بیٹھے ہیں اور ہم کسی انجان کی ویڈیو دیکھ رہے ہیں۔
لوگوں نے اس موبائل اسکرین کو زندگی سمجھ لیا ہے۔ دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہیں تو موبائل، گھر والوں کے ساتھ ہیں تو موبائل، کھانا کھا رہے ہیں تو موبائل۔ وہ لمحے جو یادیں بن سکتے تھے، وہ باتیں جو رشتوں کو گہرا کر سکتی تھیں، وہ سب اسکرین کی نذر ہو رہی ہیں۔
پہلے باتیں کم ہوتی ہیں، پھر شکایتیں آتی ہیں، پھر ایک دن سامنے بیٹھا انسان اجنبی لگنے لگتا ہے۔ اور اس سب کی شروعات اس ایک عادت سے ہوئی تھی کہ ہم نے اپنوں کے سامنے بیٹھ کر موبائل اسکرین اٹھا لی تھی۔

تیسری عادت: موبائل اسکرین کے پیچھے چھپے خطرے جو کسی کی پوری زندگی نگل گئے
ایک لڑکی تھی۔ اچھے گھر کی، سمجھدار، پڑھی لکھی۔ گھر والے اس پر جان دیتے تھے۔ موبائل اسکرین ملی تو دنیا کھل گئی، نئے لوگ ملے، نئی باتیں ہوئیں۔ ایک لڑکے سے بات شروع ہوئی جو بہت سمجھدار لگتا تھا، بہت مہذب، بہت محبت کرنے والا۔ مہینوں تک باتیں ہوتی رہیں، وعدے ہوتے رہے، خواب بنتے رہے۔
پھر ایک دن وہ لڑکی اس کے ساتھ چلی گئی۔
جو آگے ہوا وہ لکھتے ہوئے بھی ہاتھ رکتا ہے۔ وہ لڑکا اسے ایسے لوگوں کے ہاتھ بیچ گیا جن کے نزدیک انسان کی کوئی قیمت نہیں تھی۔ وہ لڑکی جو کسی کی بیٹی تھی، کسی کی بہن تھی، ایسی جگہ پہنچ گئی جہاں سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔
مہینوں بعد وہ ملی تو ملی ضرور، مگر جو واپس آئی وہ وہ لڑکی نہیں تھی جو گئی تھی۔ آنکھوں میں وہ روشنی نہیں تھی، چہرے پر وہ مسکراہٹ نہیں تھی۔ اس کی ماں آج بھی رات کو روتی ہے۔ باپ گھر میں بیٹھا خاموش رہتا ہے۔ اس کا چھوٹا بھائی ابھی تک سمجھ نہیں پایا کہ اس کی بہن کے ساتھ کیا ہوا، کیوں ہوا۔
یہ کوئی فلم کی کہانی نہیں تھی۔ یہ ہمارے درمیان ہوا، ہماری آنکھوں کے سامنے ہوا اور ہم کچھ نہ کر سکے۔
موبائل اسکرین کے پیچھے ہر چہرہ وہ نہیں ہوتا جو نظر آتا ہے۔ یہ ایک ایسا دروازہ ہے جو ہر طرف کھلتا ہے، اچھائی کی طرف بھی اور ایسی جگہوں کی طرف بھی جہاں سے واپسی بہت مشکل ہوتی ہے۔ مگر ہم یقین کر لیتے ہیں کیونکہ ہمیں کسی نے خبردار نہیں کیا، کسی نے بتایا نہیں کہ محبت کا لبادہ اوڑھے یہ لوگ کون ہوتے ہیں اور ان کا مقصد کیا ہوتا ہے۔
گھروں میں بات ہونی چاہیے۔ ماں باپ کو بیٹھ کر بچوں سے کھل کر بات کرنی چاہیے کہ موبائل اسکرین پر کیا دیکھتے ہو، کن سے بات کرتے ہو، کسی نے کوئی ایسی بات کہی جو عجیب لگی ہو تو بتاؤ۔ اگر گھر میں یہ باتیں نہیں ہوئیں تو بچہ باہر جا کر ان لوگوں سے سیکھے گا جن کا کوئی مقصد نہیں ہے۔
چوتھی عادت: رات گئے موبائل اسکرین اور زندگی کو خود اپنے ہاتھوں برباد کرنا
رات کو بستر پر لیٹ کر موبائل اسکرین دیکھنا اب ہماری قوم کا معمول بن چکا ہے۔ ایک بجے، دو بجے، تین بجے۔ اور صبح اٹھتے ہیں تو جسم تھکا ہوا، دماغ بوجھل، دن بے کار۔ یہ سلسلہ مہینوں چلتا ہے، سالوں چلتا ہے اور آہستہ آہستہ صحت کھوکھلی ہو جاتی ہے۔
نیند کا نظام تباہ ہو جاتا ہے۔ نیند نہ آنے پر موبائل اٹھاتے ہیں، موبائل سے نیند اور نہیں آتی، اور یہ چکر رات بھر چلتا رہتا ہے۔ آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے، جسم میں بے چینی، صبح اٹھنے کی ہمت نہیں۔ لوگوں کے نفسیاتی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور کوئی سمجھ نہیں پا رہا کہ اس سب کی جڑ کہاں ہے۔ جڑ وہاں ہے، رات کی اس موبائل اسکرین میں جو آپ نے سونے سے پہلے اٹھائی تھی۔
اور جب دل اداس ہو، جب کوئی تکلیف ہو تو بجائے کسی اپنے سے بات کرنے کے موبائل اسکرین نکل آتی ہے۔ گھنٹہ اسکرین پر گزرتا ہے، دل ہلکا نہیں ہوتا بلکہ اور بھاری ہو جاتا ہے۔ کیونکہ درد کا علاج اسکرین نہیں، کوئی اپنا ہوتا ہے۔ اور اپنے ہم نے خود ہی دور کر لیے ہیں۔

پانچویں عادت: موبائل اسکرین پر بے مقصد وقت اور کھوئے ہوئے خواب
میں نے کبھی ایک لڑکے کو دیکھا جو کہتا تھا کہ میں ایک دن اپنا کاروبار کروں گا۔ ذہین تھا، بات کرنے کا سلیقہ تھا، آنکھوں میں چمک تھی۔ آج وہی لڑکا گھنٹوں موبائل اسکرین پر ٹک ٹاک دیکھتا ہے۔ کاروبار کی بات کرو تو کہتا ہے کل سے شروع کرتا ہوں۔ کل کبھی نہیں آتا۔
یہی ہوتا ہے۔ ایک ویڈیو کے بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری، اور جب نظر اٹھتے ہیں تو دو گھنٹے گزر چکے ہوتے ہیں۔ نہ کچھ سیکھا، نہ کچھ بنا، نہ کچھ لکھا۔ بس وقت گیا۔ اور وقت وہ چیز ہے جو ایک بار گئی تو واپس نہیں آتی۔
سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ موبائل اسکرین پر دوسروں کی کامیابی دیکھ دیکھ کر آدمی اپنی زندگی سے ناخوش ہو جاتا ہے۔ اپنا گھر چھوٹا لگتا ہے، اپنی تنخواہ کم لگتی ہے، اپنا چہرہ برا لگتا ہے۔ یہ احساس آہستہ آہستہ اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے اور آدمی کو پتہ بھی نہیں چلتا کب ہوا۔
جو گھنٹہ آپ نے آج موبائل اسکرین کو دیا، وہ آپ کے اپنے خواب کا ایک ٹکڑا تھا جو آپ نے خود اپنے ہاتھوں سے جانے دیا۔
آخر میں بس اتنا کہنا ہے
موبائل کو پھینکنا نہیں ہے۔ یہ بات واضح رہے۔ موبائل اسکرین اپنے آپ میں نہ دشمن ہے نہ دوست، یہ ایک اوزار ہے۔ اور اوزار اس کے ہاتھ میں خطرناک بنتا ہے جو اسے سمجھے بغیر چلائے۔
جو لوگ موبائل اسکرین سے کما رہے ہیں، سیکھ رہے ہیں، دنیا سے جڑ رہے ہیں، وہ بھی اسی اسکرین کو دیکھتے ہیں جو آپ دیکھتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ یہ اسکرین ان کی زندگی چلائے گی یا وہ اسے چلائیں گے۔
آج رات سونے سے پہلے موبائل کو خود سے دور رکھیں، چارجر پر لگا دیں دوسرے کمرے میں۔ کل صبح اٹھ کر پندرہ منٹ بغیر اسکرین کے گزاریں، چائے پئیں، باہر دیکھیں، خاموشی میں بیٹھیں۔ گھر میں ایک وقت ایسا نکالیں جب موبائل اسکرین بالکل نہ ہو، بس گھر والے ہوں، باتیں ہوں، ہنسی ہو۔ یہ چھوٹی چھوٹی عادتیں ہیں مگر یہی وہ فیصلے ہیں جو آہستہ آہستہ زندگی واپس دیتے ہیں۔
اپنے بچوں سے بات کریں۔ انہیں بتائیں کہ موبائل اسکرین کے پیچھے ہر چہرہ وہ نہیں ہوتا جو نظر آتا ہے۔ انہیں ڈرائیں نہیں، سمجھائیں۔ اور سمجھانے سے پہلے خود بھی سمجھ لیں کہ آپ خود اس اسکرین کو کتنا وقت دے رہے ہیں۔
اپنے ماں باپ کے پاس بیٹھیں، آج، ابھی۔ موبائل ایک طرف رکھ دیں اور صرف ان کی طرف دیکھیں۔ وہ کتنے خوش ہوں گے، آپ کو اندازہ بھی نہیں۔
زندگی موبائل اسکرین کے پیچھے نہیں ہے۔ جو زندگی آپ ڈھونڈ رہے ہیں وہ آپ کے سامنے بیٹھے لوگوں میں ہے، آپ کے اپنوں کی آنکھوں میں ہے، اس لمحے میں ہے جو آپ ابھی جی رہے ہیں۔ اسکرین رکھیں، اوپر دیکھیں زندگی وہاں ہے۔
