گھوسٹنگ: وہ 1 خطرناک عادت جو آپ کے قیمتی رشتے خاموشی سے تباہ کر دیتی ہے

Spread the love

گھوسٹنگ: وہ 1 خطرناک عادت جو آپ کے قیمتی رشتے خاموشی سے تباہ کر دیتی ہے


تعلق کی ابتدا کہاں سے ہوتی ہے؟

گفتگو سے۔

بس گفتگو سے۔

چاہے وہ عبد اور معبود کا تعلق ہو، چاہے دو بندوں کے درمیان کا۔

کبھی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی کوہ طور پر رب کائنات کے سامنے گفتگو پر غور کیجیے گا۔

آپ کے ہاتھ میں کیا ہے اے موسیٰ؟

یہ سوال ایک لفظ میں بھی نمٹایا جا سکتا تھا۔ عصا۔ بس۔ مگر موسیٰ علیہ السلام نے بات لمبی کی۔ تاکہ بات چلتی رہے۔ تعلق بڑھتا رہے۔ گہرا ہوتا رہے۔

یہ گفتگو محض سوال کا جواب نہیں تھی۔ یہ تعلق کو جینا تھا۔


اب ذرا اپنے آپ سے پوچھیے۔

آپ کیا کرتے ہیں؟

کوئی آپ سے بات کرتا ہے۔ وقت دیتا ہے۔ اپنی زندگی کا کچھ حصہ آپ کے نام کرتا ہے۔ آپ کے سوالات کے جواب دیتا ہے۔ کبھی کبھی ایسی باتیں بھی بتاتا ہے جو اس نے کسی اور کو نہیں بتائی ہوتیں۔

اور پھر آپ غائب ہو جاتے ہیں۔

کوئی جواب نہیں۔ کوئی وجہ نہیں۔ بس خاموشی۔

انگریزی میں اسے کہتے ہیں گھوسٹنگ۔

اور یہ لفظ سنتے ہی لوگ سوچتے ہیں یہ تو صرف relationships میں ہوتا ہے۔ نہیں۔ یہ دوستی میں ہوتا ہے۔ گھر میں ہوتا ہے۔ کام میں ہوتا ہے۔ ہر جگہ ہوتا ہے۔

میں نے خود ایک بار کسی کے ساتھ یہ کیا تھا۔ بغیر سوچے۔ بس اچانک جواب دینا بند کر دیا۔ مہینوں بعد جب احساس ہوا تو سمجھ آیا کہ میں نے اسے کتنی خاموش تکلیف دی تھی۔ اس نے مجھ سے کبھی پوچھا بھی نہیں۔ شاید وہ بھی سمجھ گیا تھا کہ جواب نہیں ملے گا۔


پروین شاکر نے کیا خوب کہا تھا۔

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا
وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا

وہ یوں گیا کہ بادِ صبا یاد آگئی
احساس تک بھی ہم کو دلا کر نہیں گیا

یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا
جاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہیں گیا

چراغ بجھا کر نہیں گیا۔

یعنی امید بھی نہیں توڑی۔ یقین بھی نہیں دلایا کہ یہ ختم ہوگیا۔ بس لٹکا دیا۔ اور سامنے والا بیٹھا رہا۔ انتظار میں۔ جواب کی تلاش میں۔ خود کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے۔

گھوسٹنگ یہی کرتی ہے۔


مگر یہ خاموشی نئی نہیں ہوتی۔

کہیں نہ کہیں کسی نے آپ کے ساتھ بھی یہی کیا تھا۔

کوئی تھا۔ شاید ماں باپ میں سے کوئی۔ شاید کوئی دوست۔ شاید کوئی اور۔ جو موجود ہوتے ہوئے بھی موجود نہ تھا۔ جو ضرورت پڑنے پر غائب ہو گیا۔

اور اس نے آپ کو سکھایا، بغیر کہے، کہ تعلق کا مطلب تکلیف ہے۔ کہ قریب جانے کا مطلب دھوکہ کھانا ہے۔ کہ بھروسہ کرنے کا مطلب ٹوٹنا ہے۔

اور آپ نے سیکھ لیا۔ بچوں کی طرح سیکھ لیا۔ جیسے بچے سب کچھ سیکھتے ہیں، بغیر سوچے، بغیر سمجھے۔

پہلے ہی غائب ہو جاؤ۔ تاکہ تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔

یہ دفاع تھا۔ اس وقت کے لیے ٹھیک بھی تھا۔ مگر وہ وقت گزر گیا۔ اب یہ دفاع آپ کو بچا نہیں رہا، اب یہ آپ کو اکیلا کر رہا ہے۔


گھوسٹنگ کے پیچھے عموماً دو چیزیں ہوتی ہیں۔

ایک۔ قریب آنے کا ڈر۔

جیسے ہی کوئی تعلق بننے لگے، بھاگ جاتے ہیں۔ نہ کوئی لڑائی، نہ کوئی وجہ، بس اچانک غائب۔ یہ لوگ تعلق چاہتے بھی ہیں، مگر جب تعلق بنتا ہے تو اندر سے کچھ ڈر جاتا ہے۔

دو۔ رد ہو جانے کا ڈر۔

میں خود ہی چلا جاتا ہوں اس سے پہلے کہ سامنے والا چلا جائے۔ کم از کم انکار تو نہیں سننا پڑے گا۔

یہ logic سمجھ آتا ہے۔ مگر یہ logic آپ کو تنہا کر رہا ہے۔


یہاں ایک بات کہنی ہے اور سیدھی کہنی ہے۔

جو آپ کے ساتھ ہوا وہ آپ کی غلطی نہیں تھی۔

جس نے آپ کو یہ سکھایا کہ تعلق تکلیف دیتا ہے، وہ اس کا قصوروار تھا، آپ نہیں۔ آپ نے تو بس وہی سیکھا جو آپ کو سکھایا گیا۔

مگر جو آپ آج کر رہے ہیں وہ آپ کی ذمہ داری ہے۔

کیونکہ اب آپ بالغ ہیں۔ اب آپ سمجھ سکتے ہیں۔


اور اب وہ بات جو شاید کوئی نہیں کہتا۔

گھوسٹنگ صرف ایک بندے کے ساتھ نہیں ہوتی۔ یہ ایک پیٹرن ہے۔

جیسا آپ ایک معاملے میں کرتے ہیں ویسا آپ ہر معاملے میں کرتے ہیں۔

جہاں آپ ایک جگہ سے غائب ہوتے ہیں، وہاں آپ دوسری جگہ سے بھی غائب ہوتے ہیں۔ دوستی میں بھی۔ گھر میں بھی۔ کام میں بھی۔

ضرورت کے وقت اپنے قریبی رشتوں کے لیے میسر نہیں ہوتے۔

یار سچ بتاؤں۔ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں۔ بہت اچھے لوگ۔ دل کے صاف۔ مگر جب بھی کوئی مشکل آئی، جب بھی کسی نے ان کی ضرورت محسوس کی، وہ کہیں نہ کہیں غائب ہو گئے۔ فون نہیں اٹھایا۔ ملنے نہیں آئے۔ بعد میں کوئی نہ کوئی وجہ بتا دی۔ مگر جو چلا گیا وہ چلا گیا۔ وہ لمحہ واپس نہیں آیا۔

اور وہ رشتہ بھی۔

اور جو رشتہ ضرورت کے وقت موجود نہ ہو وہ آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا ہے۔ بات چیت کم ہوتی ہے۔ پھر بند ہو جاتی ہے۔ تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔

لوگ اسے نصیب کے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔

جبکہ یہ گھوسٹنگ کی عادت ہوتی ہے جو بار بار دہراتی ہے۔


تو پھر کیا کریں؟

پہلے اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا میں ایسا کرتا ہوں؟ کیا میں غائب ہو جاتا ہوں؟

یہ سوال آسان نہیں۔ مگر ضروری ہے۔

اگر کسی تعلق سے نکلنا ہو تو بتا کر نکلیں۔ پوری کہانی سنانا ضروری نہیں۔ بس اتنا کافی ہے کہ میں اس وقت available نہیں ہوں۔ یہ ایک لمحے کی تکلیف ہے۔ گھوسٹنگ مہینوں کی۔

اور وہ ڈر جو آپ کے اندر بیٹھا ہے، اسے پہچانیں۔ اسے نام دیں۔ کیا یہ رد ہونے کا ڈر ہے؟ قریب آنے کا ڈر ہے؟ جب تک آپ اسے نہیں پہچانیں گے تب تک وہ آپ کو چلاتا رہے گا۔


آخری بات۔

گھوسٹنگ ایک عادت ہے۔ ایک سیکھا ہوا رویہ ہے۔ اور جو چیز سیکھی جا سکتی ہے وہ بدلی بھی جا سکتی ہے۔

مگر بدلنے کے لیے پہلے ماننا پڑتا ہے۔

اور جب عادتیں بدلتی ہیں تو رشتے بدلتے ہیں۔ رشتے بدلتے ہیں تو زندگی بدلتی ہے۔

اور جب زندگی بدلتی ہے تو لوگ اسے نصیب کہتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top