عادت نہیں بدلتی؟ جانیں وہ 3 اصل وجوہات جو آپ کا ارادہ توڑ دیتی ہیں
میں جانتا ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے پھر بھی نہیں کرتا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں، یہ وہ عادت ہے جو ہم سب کے ساتھ ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی رات کو سوتے وقت خود سے وعدہ کیا ہو کہ کل سے سب بدل جائے گا
کل سے جلدی اٹھوں گا
کل سے ورزش شروع کروں گا
کل سے موبائل کم استعمال کروں گا
کل سے کتاب پڑھوں گا
لیکن پھر صبح آتی ہے اور سب کچھ ویسا ہی رہتا ہے جیسا پہلے تھا
پھر انسان خود کو قصوروار ٹھہرانا شروع کر دیتا ہے
میں سست ہوں
مجھ میں ارادہ نہیں
میں کبھی نہیں بدل سکتا
کچھ عرصہ پہلے اسد میرے پاس آیا
اس کے چہرے پر الجھن صاف نظر آ رہی تھی
بیٹھتے ہی اس نے کہا مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی میں جانتا ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے لیکن پھر بھی نہیں کرتا میں جانتا ہوں کہ مجھے صبح جلدی اٹھنا چاہیے ورزش کرنی چاہیے موبائل کم استعمال کرنا چاہیے اپنے والدین کو وقت دینا چاہیے لیکن ہر روز یہی کام اگلے دن پر چلے جاتے ہیں
اسد کی بات سن کر مجھے فوراً عاطف یاد آیا
کچھ ماہ پہلے عاطف بھی تقریباً یہی بات کر رہا تھا
فرق صرف اتنا تھا کہ نام بدل گیا تھا مسئلہ وہی تھا
اور حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف اسد یا عاطف کا نہیں
یہ ہم سب کا مسئلہ ہے
ہم جانتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے لیکن پھر بھی نہیں کرتے
سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے
زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ کمزور ارادہ یا سستی ہے لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے

پہلی وجہ: دماغ ہمیشہ پرانی عادت کو ترجیح دیتا ہے
انسانی دماغ کا ایک حصہ منصوبہ بناتا ہے مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے اور بہتر فیصلے کرنا چاہتا ہے
جبکہ دوسرا حصہ فوری سکون فوری خوشی اور آسان راستہ تلاش کرتا ہے
اور جب بھی ان دونوں میں ٹکراؤ ہوتا ہے تو اکثر آسان راستہ جیت جاتا ہے
اسی لیے سوشل میڈیا کھولنا آسان لگتا ہے لیکن کتاب کھولنا مشکل
بستر میں رہنا آسان لگتا ہے لیکن ورزش کرنا مشکل
کام شروع کرنا مشکل لگتا ہے لیکن اسے کل پر ٹال دینا آسان
یہ سستی نہیں ہے، یہ وہی پرانی عادت ہے جو دماغ نے برسوں میں پکی کر لی ہے
دوسری وجہ: پرانی عادت دماغ میں اتنی گہری اتر چکی ہوتی ہے کہ ارادہ اکیلا کافی نہیں ہوتا
فرض کریں آپ نے فیصلہ کیا کہ کل صبح پانچ بجے اٹھنا ہے
رات کو آپ پوری سنجیدگی سے الارم لگاتے ہیں
لیکن صبح جب الارم بجتا ہے تو دماغ کے اندر ایک خاموش جنگ شروع ہو جاتی ہے
ایک آواز کہتی ہے اٹھ جاؤ تم نے وعدہ کیا تھا
دوسری آواز کہتی ہے آج رہنے دو کل سے شروع کر لینا
اکثر دوسری آواز جیت جاتی ہے
اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں بہت سے لوگ خود کو کمزور سمجھنے لگتے ہیں
حالانکہ مسئلہ کمزوری کا نہیں ہوتا
مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ پرانی عادت برسوں سے دماغ میں بسی ہوئی ہے اور نئی عادت ابھی اجنبی ہے
دماغ ہمیشہ جانی پہچانی عادت کی طرف کھنچتا ہے چاہے وہ نقصاندہ ہی کیوں نہ ہو

تیسری وجہ: ہم عادت بدلنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اپنی شناخت نہیں بدلتے
یہاں ایک اور دلچسپ بات سامنے آتی ہے
زیادہ تر لوگ اپنی عادت بدلنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اپنی شناخت نہیں بدلتے
وہ کہتے ہیں مجھے ورزش کرنی چاہیے مجھے پڑھنا چاہیے مجھے وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے
لیکن یہ جملے صرف ایک کام کی طرف اشارہ کرتے ہیں
اصل تبدیلی اس وقت آتی ہے جب انسان اپنی شناخت بدلنا شروع کرتا ہے
جب وہ خود سے کہتا ہے میں وہ انسان ہوں جو اپنے جسم کا خیال رکھتا ہے میں وہ انسان ہوں جو سیکھنے کو اہمیت دیتا ہے میں وہ انسان ہوں جو اپنے وعدے پورے کرتا ہے
انسان اکثر وہی کام کرتا ہے جو وہ اپنے بارے میں سچ سمجھتا ہے
اگر آپ برسوں سے خود کو سست بے ارادہ یا ناکام سمجھتے آئے ہیں تو آپ کا دماغ بھی اسی کہانی کے مطابق عمل کرے گا
لیکن جب سوچ بدلتی ہے تو عادت بھی بدلتی ہے اور ارادہ بھی
بڑی تبدیلیاں اکثر بڑے فیصلوں سے نہیں بلکہ چھوٹے قدموں سے شروع ہوتی ہیں
آج رات سونے سے پہلے ایک کاغذ پر وہ ایک کام لکھیں جسے آپ عرصے سے ٹالتے آ رہے ہیں
پھر اس کے سامنے یہ نہ لکھیں کہ مجھے یہ کرنا چاہیے
اس کے بجائے لکھیں میں وہ انسان ہوں جو یہ کام کرتا ہے
کل صبح اٹھتے ہی اس جملے کو چند بار اپنے ذہن میں دہرائیں
شاید آپ کی زندگی فوراً نہ بدلے
لیکن یہ ممکن ہے کہ آپ کا دماغ ایک نئی کہانی پر یقین کرنا شروع کر دے
اور اکثر نئی زندگی کی شروعات ایک نئی کہانی سے ہی ہوتی ہے
اب خود سے ایک سوال پوچھیں
وہ کون سا کام ہے جس کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ آپ کو اسے کرنا چاہیے لیکن آپ آج تک اسے مسلسل ٹالتے آ رہے ہیں
