Spread the love

محبت میں ہار کر جیتنا — نمبر 1 بننے کا سفر


کچھ کہانیاں ایک ہی نشست میں نہیں سنائی جاتیں۔
یہ شخص میرے پاس پہلی بار اس لیے نہیں آیا تھا کہ کوئی بڑا مسئلہ تھا۔ بس اتنا کہا کہ اندر سے بوجھل ہوں، کچھ ہے جو نکلتا نہیں، کہیں اٹکا ہوا ہوں۔ ایسے لوگ اکثر میرے پاس آتے ہیں جو باہر سے ٹھیک دکھتے ہیں لیکن اندر سے کوئی پرانا زخم لیے پھرتے ہیں۔ میرے مریض کی طرح وہ بھی اپنے دل کا درد کسی سے شیئر کرنا چاہتا تھا، ایک محفوظ جگہ میں، بغیر کسی فیصلے کے، بغیر کسی تنقید کے۔ اس نے یہ کہانی مجھے پانچ سیشنز میں سنائی۔ پانچ مختلف دن، پانچ مختلف بیٹھکیں۔ پہلے سیشن میں بہت کم بولا، لمبی خاموشیاں تھیں، نظریں کہیں اور تھیں۔ دوسرے میں تھوڑا کھلا۔ تیسرے میں آنکھیں بھیگیں۔ چوتھے میں ہنسا بھی۔ اور پانچویں میں جب اٹھنے لگا تو بولا کہ آج ہلکا لگ رہا ہوں، پہلی بار برسوں بعد۔
یہ کہانی اسی کی زبان میں ہے، جیسے اس نے مجھے سنائی۔
میں اس دن اپنے شہر کے سب سے بڑے بازار میں تھا۔
عید سے پہلے کا وقت تھا۔ ہر طرف رش، دکانوں پر لوگوں کا ہجوم، بچوں کی آوازیں، دکانداروں کی پکار۔ میں اپنے کام سے آیا تھا، جلدی میں تھا، واپس جانا تھا۔ لیکن پھر اچانک اس بھیڑ میں ایک چہرہ نظر آیا اور میرے قدم رک گئے۔
بس رک گئے۔
جیسے کسی نے پیچھے سے کندھا پکڑ لیا ہو۔
میں نے اسے پہلے بھی دیکھا تھا، کئی بار۔ لیکن اس دن کچھ الگ تھا۔ شاید روشنی کا زاویہ تھا، شاید وہ کسی سے بات کرتے ہوئے مسکرا رہی تھی، شاید میں اس دن کچھ زیادہ ہی تھکا ہوا تھا۔ اور تھکے ہوئے لوگ زیادہ محسوس کرتے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ۔ لیکن جو ہوا وہ ہوا۔
اس لمحے ہزاروں لوگوں کا شور کہیں دور چلا گیا۔
یہ میری زندگی کی پہلی سچی محبت تھی۔ یا کم از کم پہلی بار مجھے سمجھ آئی کہ سچی محبت کیا ہوتی ہے۔
اسے جانتا تھا کچھ عرصے سے۔
ایک ہی علاقے میں رہتے تھے، کبھی کبھی راستے میں ملاقات ہو جاتی تھی۔ ہلکی پھلکی باتیں ہوتی تھیں، موسم کی، محلے کی، کبھی کبھی کسی مشترک جاننے والے کی۔ لیکن میں نے کبھی اسے بتایا نہیں تھا کہ اس کے جانے کے بعد میں گھر پہنچ کر اس کی کہی ہوئی باتیں بار بار دوہراتا رہتا ہوں۔
ایک بار وہ سبزی والے سے بھاؤ تاؤ کر رہی تھی اور میں پاس سے گزر رہا تھا۔ اس نے مڑ کر دیکھا اور ہنستے ہوئے کہا:
“یہ سبزی والا لوٹ مار کرتا ہے، کچھ بولو اسے۔”
میں رک گیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک شرارت تھی، ہونٹوں پر وہ مسکراہٹ تھی جو میرے ذہن میں گھر کر گئی تھی۔ میں نے سبزی والے سے بات کی، دام کم کرائے۔ وہ خوش ہو گئی اور بولی:
“شکریہ، آج پہلی بار کام آئے۔”
میں نے ہنس کر کہا: “پہلی بار؟”
وہ بھی ہنسی اور چل دی۔

اس رات میں اس جملے کے بارے میں سوچتا رہا۔ پہلی بار کام آئے۔ کتنے سادہ الفاظ تھے لیکن مجھے کتنا اچھا لگا تھا۔ یہ سچی محبت کی ایک نشانی ہے، جب کوئی بہت چھوٹی بات بھی تمہارے لیے بہت بڑی بن جائے۔
میں چاہتا تو وہیں سے مڑ جاتا۔
اپنے کام پر چلا جاتا، اس لمحے کو اپنے ذہن کے کسی کونے میں بند کر دیتا۔ بہت سے لوگ یہی کرتے ہیں۔ پوری زندگی یہی کرتے رہتے ہیں۔ محسوس کرتے ہیں، ڈرتے ہیں اور پھر مڑ جاتے ہیں۔ اور پھر عمر بھر اس کاش کو ساتھ لیے پھرتے ہیں کہ کاش میں نے اس دن قدم بڑھایا ہوتا۔
لیکن اس دن میں نے مڑنے کا فیصلہ نہیں کیا۔
میں اس کی طرف چلنے لگا۔ ہر قدم کے ساتھ دل کی دھڑکن بڑھتی گئی۔ ذہن میں ہزار سوال تھے۔ کیا کہوں گا، کیسے شروع کروں گا، اگر اس نے منہ پھیر لیا تو، اگر لوگوں نے دیکھا تو۔ لیکن قدم رکے نہیں۔
جب قریب پہنچا تو اس نے مجھے دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے وہ بھی رکی۔
“کیا ہوا؟” اس نے پوچھا۔
اور میں نے جو کہا وہ پہلے سوچا نہیں تھا۔ کوئی تیاری نہیں تھی، کوئی اسکرپٹ نہیں تھی۔ بس نکل گیا:
“میں جانتا ہوں میں تمہارے قابل نہیں ہوں۔ شاید کبھی تھا بھی نہیں۔ لیکن میں نے تمہیں اپنی ہر دعا میں مانگا ہے، اپنی ہر تنہائی میں مانگا ہے۔ تمہاری جدائی کا تصور مجھے اندر سے توڑ دیتا ہے۔”
وہ خاموش رہی۔ ایک لمبی خاموشی۔
پھر اس نے میری آنکھوں میں دیکھا اور آہستہ سے بولی:
“تم بہت اچھے ہو۔ لیکن میں تمہیں وہ نہیں دے سکتی جو تم چاہتے ہو۔ میرا دل کہیں اور ہے۔”
میں چاہتا تھا کہ کچھ کہوں، کوئی جواب دوں، کوئی دلیل دوں۔ لیکن کیا کہتا۔ دل کی بات کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔
“ٹھیک ہے۔” بس اتنا کہا میں نے۔
وہ مڑی اور چلی گئی۔ میں نے روکا نہیں۔ میری نظریں اس کے جاتے ہوئے قدموں کا تعاقب کرتی رہیں، یہاں تک کہ وہ ہجوم میں کہیں اوجھل ہو گئی۔ لوگ میرے پاس سے گزرتے رہے، کسی کو نہیں معلوم تھا کہ ابھی کچھ لمحے پہلے میری دنیا کا ایک بڑا حصہ اس بھیڑ میں کہیں گم ہو گیا ہے۔
محبت کا درد جب سچا ہو تو باقی سب چیزیں چھوٹی لگنے لگتی ہیں۔
اس رات میں بہت دیر تک سو نہیں سکا۔
یک طرفہ محبت کا درد ایسا ہوتا ہے جو جسم کو نہیں، اندر کو لگتا ہے۔ آنکھیں بند کرو تو وہی چہرہ، آنکھیں کھولو تو وہی خاموشی۔ میں بار بار اس لمحے کو دوہراتا رہا جب اس نے کہا تھا کہ اس کا دل کہیں اور ہے۔
کیا میں نے غلطی کی؟ کیا مجھے وہ بات نہیں کہنی چاہیے تھی؟ کیا بہتر تھا کہ خاموش رہتا؟
لیکن پھر ایک اور سوال آیا۔
اگر میں خاموش رہتا تو کیا سکون ملتا؟
نہیں ملتا۔
یک طرفہ محبت کا سب سے بڑا درد یہ نہیں ہوتا کہ سامنے والی نے نہیں مانا۔ سب سے بڑا درد یہ ہوتا ہے کہ تم نے کبھی کہا ہی نہیں، کبھی آزمایا ہی نہیں اور پھر پوری زندگی کاش کے ساتھ جیتے رہے۔ میں نے کم از کم یہ کاش اپنے ساتھ نہیں رہنے دیا۔
پھر کئی مہینے گزرے۔
کوئی نہیں تھا بات کرنے والا۔ نہ کوئی جس سے یہ سب کہتا، نہ کوئی جو سمجھتا۔ رات کو اکیلے بیٹھتا تھا، اپنے ہی ذہن سے لڑتا تھا، اپنے ہی سوالوں کے جواب خود ڈھونڈتا تھا۔
ایک رات بہت بری تھی۔ بالکل اندھیری۔
میں چھت پر بیٹھا تھا، آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ اور پہلی بار اپنے آپ سے بالکل سچا ہوا۔ کوئی بہانہ نہیں، کوئی جھوٹی تسلی نہیں۔ بس یہ مانا کہ تکلیف ہے، سچی تکلیف ہے، اور اسے محسوس کرنا ہوگا۔
جب تم کسی کے سامنے نہیں رو سکتے تو اللہ کے سامنے رو لو۔
میں نے یہی کیا۔ بہت دیر تک۔
اور اس رات کے بعد کچھ بدل گیا۔ ایسے نہیں کہ درد ختم ہو گیا۔ لیکن ایسے کہ میں اس درد سے ڈرنا چھوڑ گیا۔ جب ڈر ختم ہوتا ہے تو آدمی آگے بڑھ سکتا ہے۔
محبت میں ہار کے بعد آدمی دو راستوں پر جا سکتا ہے۔
ایک راستہ یہ ہے کہ ٹوٹ جاؤ، بکھر جاؤ، دنیا کو کوسنے لگو، یہ سمجھو کہ سب ختم ہو گیا۔ اور دوسرا راستہ یہ ہے کہ اس درد کو اپنا استاد مانو۔
میں نے دوسرا راستہ چنا۔
آسان نہیں تھا۔ کئی رات آنکھیں بھیگیں۔ کئی صبح اٹھنے کو جی نہیں چاہا۔ لیکن ہر بار جب اندھیرا بہت گہرا لگا، میں نے اس لمحے کو یاد کیا جب میں اس بھیڑ میں بالکل سچا ہو گیا تھا۔ اور سوچا کہ جو شخص اتنا سچا ہو سکتا ہے، وہ ٹوٹ نہیں سکتا۔
اس واقعے کے کچھ مہینے بعد میری زندگی میں ایک عجیب تبدیلی آئی۔
جو شخص پہلے ہر فیصلے کے لیے دوسروں کی رائے ڈھونڈتا تھا، وہ اچانک آگے بڑھنے لگا۔ میرے خیال میں اس بھیڑ میں جو ہوا اس نے میرے اندر کا کوئی دروازہ کھول دیا تھا۔ جب ایک بار ہزاروں لوگوں کے سامنے اپنا دل کھول دو تو پھر چھوٹی چھوٹی باتوں سے ڈر نہیں لگتا۔

میں نے وہ کاروبار شروع کیا جس کے بارے میں برسوں سے سوچ رہا تھا لیکن ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ ہوتا تھا۔ ناکافی پیسے، ناکافی وقت، ناکافی حوصلہ۔ لیکن اب وہ بہانے ختم ہو چکے تھے۔ پہلے چھ مہینے بہت مشکل تھے، کئی بار لگا نہیں ہوگا۔ لیکن محبت کا درد سہنے کے بعد کاروبار کی مشکلیں چھوٹی لگتی تھیں۔ جو شخص دل ٹوٹنے کا درد سہہ سکتا ہے وہ کاروبار کے اتار چڑھاؤ بھی سہہ سکتا ہے۔
آہستہ آہستہ کاروبار چلنے لگا، پھر دوڑنے لگا۔
دو سال بعد جب میں نے اپنی پہلی گاڑی خریدی تو اس دن مجھے وہ بازار یاد آیا، وہ بھیڑ یاد آئی، وہ چہرہ یاد آیا۔ اور میں مسکرا دیا۔ اس لیے نہیں کہ میں نے کچھ ثابت کر دیا تھا۔ بلکہ اس لیے کہ اگر وہ لمحہ نہ آتا، اگر وہ درد نہ ہوتا، تو شاید میں آج بھی وہیں کھڑا ہوتا جہاں برسوں پہلے تھا۔ ڈرا ہوا، رکا ہوا، دوسروں کی رائے کا قیدی۔ اس پہلی گاڑی میں بیٹھ کر جب میں نے اسٹارٹ کیا تو دل میں ایک ہی خیال تھا کہ یہ سفر اس دن شروع ہوا تھا جب میں نے اس بھیڑ میں قدم بڑھائے تھے۔
آج میرا کاروبار اچھا چل رہا ہے، گھر ہے، گاڑیاں ہیں، سکون ہے۔ لیکن سب سے بڑی دولت یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ میں کون ہوں۔ اپنی کمزوریاں بھی، اپنی طاقت بھی۔ اور یہ جاننا مجھے اس یک طرفہ محبت نے سکھایا جسے لوگ ناکامی سمجھتے ہیں۔
آج جب میں اپنے کمرے میں بیٹھ کر لوگوں کی کہانیاں سنتا ہوں تو اکثر ان میں اپنی کہانی نظر آتی ہے۔ وہی درد، وہی الجھن، وہی سوال کہ آگے کیا ہوگا۔ اور میں انہیں بتاتا ہوں کہ یک طرفہ محبت کا درد تمہیں ختم کرنے نہیں آیا، یہ تمہیں شروع کرنے آیا ہے۔ بس یہ فیصلہ تمہارا ہے کہ اسے اپنی قبر بناؤ یا اپنی بنیاد۔
اگر آج تم بھی کسی ایسے موڑ پر کھڑے ہو جہاں محبت میں ہار ہوئی ہے، جہاں دل ٹوٹا ہوا ہے، جہاں لگ رہا ہے کہ سب ختم ہو گیا تو ایک بات کانوں میں ڈال لو۔
محبت کا درد اس بات کی نشانی ہے کہ تم ابھی زندہ ہو۔ ابھی محسوس کر سکتے ہو۔ ابھی پوری طرح انسان ہو۔
محبت میں ہار کر بھی جیتا جا سکتا ہے۔ بس یہ جاننا ضروری ہے کہ جیت صرف پانے کا نام نہیں، جیت کبھی کبھی اپنے آپ کو پہچاننے کا نام بھی ہوتی ہے۔
اور یہی سچی محبت کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top