ایک ضروری بات یہ ہے کہ تمام نام اور مقام فرضی ہیں کسی بھی قسم کی مماثلت اتفاقیہ ہوگی اس کا ادارے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔لیکن یہ کہانی 101 فیصد سچی اور تصدیق شدہ ہے۔
کیا سوچا تھا اور کیا ہو گیا: زندگی کا آغاز
بینک منیجر سے پردیس کے سفر تک
ہر انسان کی زندگی ایک پوری کتاب ہوتی ہے۔ اس کتاب میں کچھ باب خوشیوں کے، کچھ آزمائشوں کے اور کچھ دکھوں کے ہوتے ہیں۔ آج جب پیچھے مڑ کے دیکھتا ہوں تو ایک یہی خیال آتا ہے کہ کیا سوچا تھا کیا ہو گیا، کیا چاہا تھا کیا بن گیا۔
کہانی شروع ہوتی ہے ایک ایسے انسان سے جس کی نئی نئی شادی ہوئی۔ شادی کے بعد کی مشکلات ابھی شروع ہی ہوئی تھیں۔ اس کا نام کبیر تھا، جس نے B.A کیا ہوا تھا؛ بالکل سادہ سا لڑکا تھا، زیادہ نہ سوچنا نہ سمجھنا۔ کسی نے اس سے کہا کہ ایک ادارہ ہے جو قرضے دیتا ہے، اس میں نوکری ہے تم کر لو۔ کبیر نے بڑی آسانی سے اس ادارے میں انٹرویو دیا، پاس ہو گیا اور نوکری شروع کر دی۔
تنخواہ آنا شروع ہو گئی، گھر چلنے لگا۔ لیکن اسی دوران کبیر کی ماں کی موت ہو گئی، جس کی وجہ سے جو پورا خاندان ایک ساتھ اکٹھا تھا، وہ بکھر گیا اور ساتھ ہی کبیر کی زندگی بھی بکھرنا شروع ہو گیا۔ کبیر چونکہ ایک سادہ سا انسان تھا، اسے دفتری زندگی کا اتنا زیادہ اندازہ نہیں تھا اور نہ ہی ایسی کوئی تربیت ہوئی تھی۔ بالکل سادہ سی زندگی، سادہ لوح ماں باپ، اور سادہ سے انسانوں کے بیچ پرورش پانے والے کو نہ دفتری اصولوں کا پتہ تھا، نہ دفتری سازشوں کا، اور نہ ہی دنیا کی اونچ نیچ کا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حالات ایسے پیدا کر دیے گئے کہ اسے وہ نوکری چھوڑنا پڑی۔ پھر ایک اور لڑکے کے ساتھ رابطہ ہوا، جس نے بینک کی نوکری کے بارے میں بتایا اور کبیر کو بینک میں نوکری مل گئی۔
وضاحت:
یہاں ایک بات واضح کر دوں کہ کبیر کوئی اور نہیں، میں خود ہوں۔ یہاں سے آگے میں “کبیر” نہیں لکھوں گا، بلکہ اپنے آپ کا ہی ذکر کروں گا۔
بینک کی نوکری اور سود کی تباہ کاریاں
بینک میں نوکری مل گئی، زندگی میں کچھ آسانی تو آئی لیکن ساتھ ہی ایک ایسا مسئلہ شروع ہو گیا جس کی وجہ سے پھر سے زندگی برباد ہونا شروع ہو گئی؛ اور اس بربادی کی وجہ سمجھنے میں مجھے پورے پانچ سال لگ گئے۔ کیونکہ نوکری بڑی پیاری اور میٹھی چیز ہوتی ہے، انسان اس کے جال میں پھنس جاتا ہے۔
بینک کا کام سراسر سود کا تھا—لوگوں کو سود پر پیسے دینا اور ان سے وصولیاں کرنا۔ بظاہر کام اچھا تھا، لیکن سود نے اندر ہی اندر بربادی پھیلانا شروع کر دی۔ پہلے دو سال بہت آرام سے گزر گئے، لیکن دو سال بعد دنیا میں Corona Virus آ گیا۔ اس وائرس نے جہاں بہت سے لوگوں کی زندگیاں بدلیں، وہاں بینکنگ کا پورا نظام بھی اتھل پتھل کر دیا۔ خاص طور پر ان بینکوں کا نظام، جو قرضے دے کر لوگوں سے سود کی وصولیاں کرتے تھے، بالکل بدل کر رہ گیا۔
سود بذات خود اللہ اور اس کے رسول کے خلاف ایک بہت بڑی جنگ ہے، لیکن اس وائرس کے بعد تو اس تباہی کے نئے نئے دروازے کھلے۔ تب مجھے سمجھ آیا کہ یہ کتنی بڑی تباہ کاری ہے۔ اس سود کی نحوست کی وجہ سے میرے گھر کے اندر بیماریاں آ گئیں۔ نہ کبھی سکون سے سوئے، نہ کبھی سکون سے جاگے، نہ کبھی سکون سے کھایا۔ جتنا کمایا، وہ سب ہسپتالوں اور دوائیوں میں لگ گیا۔
پاکستان میں رہتے ہوئے اگر کوئی انسان مہینے کا ڈیڑھ سے دو لاکھ کما رہا ہو، تو اسے ایک کامیاب نوکری یا کاروبار سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس میں سود شامل ہو جائے، تو وہ تباہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ دو لاکھ کمانے والا بندہ بھی ۱۵ تاریخ کے بعد لوگوں سے مانگنے پر مجبور ہو جاتا تھا۔ کوئی سیونگ ہوتی تو وہ بیماری پر لگ جاتی، تنخواہ آتی تو پتہ بھی نہ چلتا اور ختم ہو جاتی۔ اس پیسے سے کوئی کاروبار شروع کیا تو وہ بھی برباد ہو گیا۔ دن بدن سر پر قرضہ چڑھتا جا رہا تھا۔ آخر ایک انسان کتنی دیر قائم رہ سکتا تھا؟
ایک مخلص ہم سفر کا ساتھ اور ہجرت کا فیصلہ
ایسے کٹھن وقت میں انسان کو ایک ایسے ہم سفر کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر صورت میں آپ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو۔ مجھے اللہ نے وہ ہم سفر میری بیوی کی شکل میں دیا۔ ایک دن میری بیوی نے مجھ سے بولا: “یہ دوائیاں کھا کھا کر، ٹیکے لگوا کر اور ہسپتالوں کے چکر کاٹ کاٹ کر ہم تھک چکے ہیں، خدا کے لیے یہ بینک کی نوکری چھوڑ دو۔”
میں نے اس سے کہا: “اگر نوکری چھوڑ دی تو سڑک پر آ جائیں گے، فاقے کرنے پڑیں گے، اتنے پیسے اور اتنی تنخواہ ہمیں کہیں سے نہیں ملے گی۔” لیکن وہ حلال پر راضی تھی۔ جو کچھ جمع پونجی بیوی کے پاس اور میرے پاس تھی، ہم نے اکٹھی کی اور ایک بندے کو دی تاکہ وہ ہمیں بیرون ملک کا ویزہ لے کر دے۔ اس نے قطر کا ویزہ دلوانے کا وعدہ کیا، لیکن وہ ویزے کے ڈبل پیسے لے کر غائب ہو گیا۔
نوکری چھوٹ چکی تھی اور ہم شدید مالی بحران میں تھے۔ اس مشکل وقت میں میری بیوی نے ہمت نہیں ہاری۔ اسے سلائی کا کام آتا تھا، اس نے رات دن لوگوں کے کپڑے سی کر گھر چلایا۔ مجھے کبھی مزدوری ملتی، کبھی نہ ملتی۔ لیکن اس سب کا ایک بہت بڑا فائدہ ہوا: ہمارے گھر سے وہ پراسرار بیماریاں ختم ہو گئیں! جو روزانہ کا ۲ سے ۳ ہزار روپیہ ہم دوائیوں اور ہسپتالوں میں لگا رہے تھے، وہ لگنا بند ہو گیا اور ہمیں زندگی میں پہلی بار سکھ کا سانس ملا۔
بعد میں، جس بندے نے پیسے کھائے تھے، اس کے گھر بندے بھیج کر بہت مشکل سے پیسے نکالے اور میں قطر پہنچ گیا۔ لیکن نوکری چھوڑنے سے لے کر قطر پہنچنے تک، اور وہاں کام ملنے تک، ہمارے اپنے سگے بھائیوں، بہنوں، چچاؤں، ماموؤں حتیٰ کہ میرے باپ نے بھی میرا ساتھ نہیں دیا۔ لوگوں نے ایک ایک سو روپے کے لیے ہمارے اوپر اعتبار کرنا ختم کر دیا، لیکن ہم میاں بیوی نے اپنے دو بچوں سمیت اس کو اللہ کی طرف سے ایک آزمائش سمجھا اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
برانچ منیجر سے ویئر ہاؤس کے ہیلپر تک: حلال کا سکون
قطر آنے کے بعد بھی شروع کے چار مہینے مجھے کوئی کام نہیں ملا۔ آخر کار ایک ایسا انسان ملا جس نے مجھے کام پر لگوایا۔ اس نے مجھے جس صفائی کرنے کے کام پر لگایا تھا، آہستہ آہستہ میں وہ سیکھ گیا۔
سوشل میڈیا پر اور دنیا کی نظر میں، پاکستان کے ایک بینک میں برانچ منیجر کی حیثیت سے کام کرنے والا شخص آج قطر میں ایک ویئر ہاؤس میں جھاڑو لگا رہا تھا اور صفائی کر رہا تھا؛ لیکن میرے دل میں ایک گہرا سکون تھا، کیونکہ میں سود کی جنگ سے دور ہو چکا تھا۔
میری بیوی نے ایک سچی اور مخلص خاتون ہونے کے ناطے مجھے ہر جگہ سپورٹ کیا۔ اس نے مجھے ایک بات لکھ کر دی تھی جو میرے دل پر نقش ہو گئی:
“ہم نے ہارنا نہیں ہے۔”
اس نے اپنی محنت، سچائی اور ہاتھوں کے ہنر سے میرا گھر بھی چلایا، میرا ساتھ بھی دیا، میرا حوصلہ بنی اور مجھے ٹوٹنے نہیں دیا۔
میرا پیغام: ہار نہیں ماننی!
آج جب میں قطر سے نکل کر دنیا کے دو اور ملک گھوم کر بیٹھا ہوں اور اپنے ماضی کو دیکھتا ہوں، تو میرا دل اللہ کی شکرگزاری سے بھر جاتا ہے کہ اس نے مجھے سود کی دلدل سے نکال کر حلال کمانے کا راستہ دکھایا۔ جس دن سے میں نے بینک کی نوکری چھوڑی ہے، آج تک میرے گھر میں کوئی دوائی، کوئی انجکشن یا کوئی بوتل نہیں آئی۔
اگر میں ان سب حالات سے گزر کر، سب کچھ کھو کر دوبارہ کھڑا ہو سکتا ہوں اور کامیاب ہو سکتا ہوں، تو دنیا کا کوئی بھی انسان کامیاب ہو سکتا ہے۔ آپ بھی کامیاب ہو سکتے ہیں! دنیا کی کوئی طاقت آپ کو کامیابی سے نہیں روک سکتی، بشرطیکہ آپ سچے دل سے اپنے پروردگار سے مانگیں اور حلال کمانے کی نیت سے محنت کریں۔
یاد رکھیں، کسی کو دھوکہ دے کر یا تکلیف پہنچا کر کبھی آگے بڑھنے کی کوشش نہ کریں۔ کیونکہ جن لوگوں نے مجھے دھوکہ دیا تھا، جنہوں نے میری مجبوری کا فائدہ اٹھایا تھا، وہ آج بھی لوگوں سے مانگ مانگ کر اور دھوکے دے کر کھا رہے ہیں، جبکہ میں اللہ کے کرم سے اپنی حلال کی محنت سے اپنی فیملی اچھے طریقے سے چلا رہا ہوں۔ آزمائشیں زندگی میں آتی رہتی ہیں، امتحان ہوتے رہتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ ہار نہیں ماننی، اور جو آپ کے ساتھ مخلص ہو، اس کے ساتھ ہمیشہ مخلص رہنا ہے۔