بیوی پر ظلم: جب شوہر محافظ نہیں، خوف بن جائے — 3 سچی کہانیاں
میں پندرہ سال سے لوگوں کی زندگیاں سنتا آ رہا ہوں۔ خوشیاں بھی آتی ہیں، مگر درد زیادہ آتا ہے۔ اور ان دردوں میں سب سے بھاری درد وہ ہوتا ہے جو ایک عورت اپنے ہی گھر کے اندر اٹھاتی ہے۔ خاموشی سے۔ چھپ کر۔ اس لیے نہیں کہ وہ کمزور ہے، بلکہ اس لیے کہ اسے آہستہ آہستہ یقین دلا دیا گیا ہوتا ہے کہ یہی اس کی قسمت ہے، یہی شادی ہے، اور یہی برداشت ایک اچھی بیوی ہونے کی قیمت ہے۔
یہ مضمون میں نے ان عورتوں کے لیے نہیں لکھا۔
یہ میں نے ان مردوں کے لیے لکھا ہے جو ابھی بھی بدل سکتے ہیں۔ ان شوہروں کے لیے جو شاید یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف غصہ کرتے ہیں، صرف سختی کرتے ہیں، صرف بات کرتے ہیں۔ مگر انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ بیوی پر ظلم ہمیشہ ہاتھ اٹھانے سے شروع نہیں ہوتا۔ کبھی یہ لہجے سے شروع ہوتا ہے، کبھی بے اعتنائی سے، کبھی خاموش سزا سے، اور کبھی ان جملوں سے جو ایک عورت کے اندر برسوں تک گونجتے رہتے ہیں۔
بیوی پر ظلم کیا ہوتا ہے؟
بیوی پر ظلم صرف یہ نہیں کہ شوہر بیوی پر ہاتھ اٹھائے۔ ظلم اس سے کہیں زیادہ وسیع اور خطرناک چیز ہے۔
ظلم یہ بھی ہے کہ ایک عورت صبح اٹھے اور اپنے ہی گھر میں خود کو غیر ضروری محسوس کرے۔ ظلم یہ بھی ہے کہ وہ بات کرے اور اسے ایسے سنا جائے جیسے کوئی اہم بات ہی نہ ہو۔ ظلم یہ بھی ہے کہ وہ اپنے حق کا خرچ مانگے اور جواب میں اسے شرمندہ کیا جائے۔ ظلم یہ بھی ہے کہ اس کی عزت مجروح کی جائے، اس کے جذبات کو کمزور کہا جائے، اس کی بات کو ہر بار رد کر دیا جائے، یا اس کی خاموشی کو اس کی رضا سمجھ لیا جائے۔
حق مارنا ظلم ہے۔ حد سے بڑھ جانا ظلم ہے۔ خوف پیدا کرنا ظلم ہے۔ عزت چھین لینا ظلم ہے۔
اور بیوی اللہ کی امانت ہے۔ امانت میں خیانت صرف دنیا کا جرم نہیں، آخرت کا حساب بھی ہے۔
ظلم کی وہ شکلیں جنہیں لوگ ظلم مانتے ہی نہیں
بیوی پر ظلم ہمیشہ ایک ہی صورت میں سامنے نہیں آتا۔ کبھی وہ گالی کی شکل میں ہوتا ہے، کبھی طنز کی صورت میں۔ کبھی ہاتھ اٹھتا ہے، کبھی زبان۔ کبھی خرچ روک لیا جاتا ہے، کبھی مائیکے جانے پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ کبھی بچوں کو ماں کے خلاف ہتھیار بنایا جاتا ہے، کبھی ساس یا خاندان کے سامنے اس کی تذلیل کی جاتی ہے۔ کبھی شوہر ہفتوں بات بند کر دیتا ہے، اور کبھی ہر بات میں یہ احساس دلاتا ہے کہ تم کچھ نہیں ہو، تمہاری کوئی حیثیت نہیں۔
بہت سے مرد صرف اس لیے خود کو ظالم نہیں سمجھتے کیونکہ انہوں نے کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا۔ لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ شوہر کا ظلم صرف جسم پر نشان چھوڑنے کا نام نہیں۔ زبان کی مار، مسلسل تحقیر، مالی دباؤ، بے رخی اور سرد رویہ بھی ایک عورت کو اندر سے توڑ سکتے ہیں۔
قرآن شوہر کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنی طاقت کو عورت کی کمزوری بنا دے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو”۔ اچھے طریقے سے رہنے میں گالی، تذلیل، مسلسل خوف، بے اعتنائی اور حق تلفی شامل نہیں ہو سکتی۔ اس لیے بیوی پر ظلم صرف اخلاقی برائی نہیں، ایک دینی جواب دہی بھی ہے۔

ثمینہ — جو خاموش رہی
ثمینہ پہلی بار میرے پاس آئی تو اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے۔ آنسو تو تب ہوتے ہیں جب اندر کچھ باقی بچا ہو۔ وہ بس بیٹھی رہی۔ خالی۔ جیسے برسوں کی تھکن نے اس کے اندر سے آواز ہی نکال دی ہو۔
بارہ سال کی شادی تھی۔ تین بچے تھے۔ شوہر کاروبار کرتا تھا۔ باہر سے عزت دار، خوش اخلاق، سنجیدہ۔ مگر گھر کے اندر ایک بالکل الگ انسان۔ کبھی گالی، کبھی طعنہ، کبھی ہفتوں بات بند۔ کبھی ایسا رویہ جیسے ثمینہ اس گھر کا حصہ ہی نہ ہو۔ اس نے آہستہ آہستہ یہ مان لیا تھا کہ شاید یہی شادی ہے، یہی عورت کا نصیب ہے، اور بیوی پر ظلم بھی اسی نصیب کا حصہ ہے۔
اس کے بال تیزی سے جھڑنے لگے تھے۔ معدہ ہر وقت خراب رہتا تھا۔ رات کو نیند نہیں آتی تھی۔ ڈاکٹر نے کہا: یہ سب ذہنی دباؤ کی علامات ہیں۔
لیکن ثمینہ نے کبھی کسی کو نہیں بتایا کہ یہ ذہنی دباؤ آتا کہاں سے ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ بتانا نہیں چاہتی تھی، بلکہ اس لیے کہ اسے یقین ہو چکا تھا کہ کوئی سنے گا ہی نہیں۔ یہی گھریلو ظلم کی سب سے خطرناک شکلوں میں سے ایک ہے: انسان چیختا نہیں، بس آہستہ آہستہ اندر سے بجھتا جاتا ہے۔
جب میں نے اس سے صرف ایک سوال پوچھا: “ثمینہ، تم ٹھیک ہو؟”
وہ پہلی بار روئی۔
بارہ سال بعد۔
نادیہ — جسے صرف زبان نے توڑا
نادیہ کی کہانی آج بھی میرے دل پر بوجھ ڈالتی ہے۔
اس کا شوہر پڑھا لکھا تھا۔ سرکاری ملازم۔ باقاعدہ نماز پڑھنے والا، لوگوں میں باوقار، اور بظاہر شریف آدمی۔ وہ ہاتھ نہیں اٹھاتا تھا، مگر زبان سے جو کرتا تھا، وہ ہاتھ سے بھی زیادہ گہرا زخم دیتا تھا۔
ہر رات کوئی نہ کوئی جملہ:
“تم نے زندگی میں کیا کیا ہے؟”
“تمہاری ماں نے تمہیں کیا سکھایا؟”
“میں نے غلطی کی جو تم سے شادی کی۔”
کچھ جملے جسم پر نشان نہیں چھوڑتے، مگر انسان کی روح پر لگ جاتے ہیں۔ نادیہ نے مجھے بتایا کہ وہ رات کو سونے سے پہلے اکثر سوچتی تھی: “کاش صبح نہ ہو۔”
یہ سن کر میں چند لمحے خاموش رہا۔
یہ صرف اداسی نہیں تھی۔ یہ صرف تھکن نہیں تھی۔ یہ مسلسل زبانی اذیت کا وہ مرحلہ تھا جہاں انسان کے اندر سے جینے کی وجہ آہستہ آہستہ نکلنے لگتی ہے۔ جب ہر دن تذلیل کے ساتھ گزرے، تو انسان کبھی کبھی یہ ماننے لگتا ہے کہ شاید واقعی وہ بے قیمت ہے۔ شاید اس کے نہ ہونے سے کسی کو فرق نہیں پڑے گا۔
اور سب سے دردناک بات یہ ہے کہ نادیہ کا شوہر آج بھی سمجھتا ہے کہ اس نے کچھ غلط نہیں کیا۔ اس نے تو بس بات کی تھی۔
صرف بات۔
لیکن سچ یہ ہے کہ شوہر کا ظلم صرف ہاتھ سے نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایک جملہ، ایک طنز، ایک روزانہ کی تذلیل عورت کے دل میں وہ زخم چھوڑ جاتی ہے جو برسوں نہیں بھرتے۔ بیوی پر ظلم کی یہی وہ شکل ہے جسے معاشرہ اکثر ظلم ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔

رومانہ — جو نکل گئی
رومانہ میری سب سے یادگار مراجعین میں سے ایک ہے۔ اس لیے نہیں کہ اس کی کہانی سب سے زیادہ خوفناک تھی، بلکہ اس لیے کہ اس نے وہ قدم اٹھایا جو بہت کم عورتیں اٹھا پاتی ہیں۔
اس کے شوہر کا ہاتھ چلتا تھا۔ پہلے کبھی کبھی، پھر اکثر، پھر یہ اس کی عادت بن گئی۔ ساتھ ہی دھمکیاں بھی:
“تم کہیں نہیں جا سکتیں۔”
“تمہارے پاس کچھ نہیں ہے۔”
“تمہیں کوئی نہیں رکھے گا۔”
رومانہ نے یہ سب سات سال تک سہا۔ مار، ذلت، خوف، اور وہ خاموشی جو اکثر عورتیں اپنے بچوں کی خاطر اوڑھ لیتی ہیں۔ یہ بیوی پر ظلم کی وہ کھلی شکل تھی جس میں نہ صرف عورت ٹوٹتی ہے بلکہ گھر کی فضا بھی خوف میں بدل جاتی ہے۔
پھر ایک دن اس نے اپنی چھوٹی بیٹی کو کونے میں سمٹا ہوا دیکھا۔ باپ ماں پر چیخ رہا تھا، اور بچی خوف سے کانپ رہی تھی۔ رومانہ نے اسی لمحے فیصلہ کر لیا۔
اس نے مجھ سے کہا:
“مجھے اپنے لیے نہیں نکلنا تھا۔ میں تو شاید یہ سب اور بھی سہہ لیتی۔ مگر میری بیٹی کو یہ نہیں سیکھنا چاہیے کہ مرد ایسے ہوتے ہیں، اور عورت کو یہ سب قبول کرنا پڑتا ہے۔”
یہ جملہ آج بھی میرے ذہن میں گونجتا ہے۔
کیونکہ بچے صرف نصیحت سے نہیں سیکھتے، وہ ماحول سے سیکھتے ہیں۔ باپ اگر ماں پر چیختا ہے تو بیٹا یہ سیکھ سکتا ہے کہ یہی مردانگی ہے۔ بیٹی یہ سیکھ سکتی ہے کہ یہی شادی ہے۔ اور پھر گھریلو ظلم ایک واقعہ نہیں رہتا، ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونے والا رویہ بن جاتا ہے۔
بیوی پر ظلم کے وہ اثرات جو گھر کی دیواروں سے باہر بھی جاتے ہیں
بہت سے شوہر یہ سمجھتے ہیں کہ اگر معاملہ گھر کے اندر رہا، اگر کسی نے دیکھا نہیں، اگر عورت نے کسی سے کچھ کہا نہیں، تو گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔
لیکن بیوی پر ظلم کبھی صرف ایک کمرے میں نہیں رہتا۔
مسلسل خوف، بے عزتی، تحقیر اور ذہنی دباؤ عورت کے جسم اور ذہن دونوں پر اثر ڈالتے ہیں۔ نیند خراب ہو جاتی ہے، معدہ متاثر ہوتا ہے، بال جھڑنے لگتے ہیں، دل بے سکون رہتا ہے، اور بعض اوقات ڈپریشن، شدید اضطراب اور مسلسل تھکن زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جسم اکثر وہ سچ بول دیتا ہے جسے عورت زبان سے نہیں کہہ پاتی۔
اور اگر گھر کا ماحول مسلسل خوف اور اذیت سے بھرا ہو، تو اس کے اثرات بچوں پر بھی پڑتے ہیں۔ وہ بے چینی، ڈر، عدم تحفظ، غصہ یا خاموشی کی شکل میں اس بوجھ کو اپنے اندر لے لیتے ہیں۔ بعض اوقات ایک باپ کو یہ اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ بیوی پر ظلم کر کے صرف ایک عورت کو نہیں توڑ رہا، بلکہ اپنے بچوں کی شخصیت میں بھی خوف اور بے یقینی بو رہا ہے۔

اللہ کا حکم اور بیوی کے حقوق
اسلام نے شوہر کو ظلم کی اجازت نہیں دی، ذمہ داری دی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
“اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو” — سورۃ النساء، آیت 19
یہ ایک مختصر حکم ہے، مگر اس کے اندر پوری ازدواجی اخلاقیات سمٹ آتی ہیں۔ اچھے طریقے سے رہنے کا مطلب صرف کھانا، کپڑا اور رہائش دینا نہیں۔ اس میں عزت، نرمی، لحاظ، عدل، صبر، حفاظت اور حسنِ سلوک شامل ہے۔ یہی دراصل بیوی کے حقوق کا بنیادی خلاصہ ہے۔
نبی کریم ﷺ کی زندگی اس حکم کی عملی تفسیر ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی عورت، کسی بچے یا کسی خادم کو نہیں مارا۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا:
“تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔”
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ایک مرد باہر سب کے ساتھ خوش اخلاق ہو، مگر اپنے گھر میں اپنی بیوی کے لیے خوف، بے عزتی اور تکلیف کا سبب بن جائے، تو وہ اپنے کردار کا کون سا چہرہ اللہ کے سامنے لے کر جائے گا؟ شوہر کا ظلم اگر گھر کے دروازے کے اندر بھی ہو، تب بھی اللہ کی نگاہ سے اوجھل نہیں ہوتا۔
مرد کا اصل مقام: حاکم نہیں، محافظ
قرآن نے مرد کو قوّام کہا ہے۔ مگر قوّام کا مطلب یہ نہیں کہ وہ گھر کا بادشاہ ہے، اور باقی سب اس کی رعایا ہیں۔ قوّام کا مطلب ذمہ دار، محافظ، نگہبان اور سہارا دینے والا ہے۔
محافظ وہ نہیں ہوتا جو خود خطرہ بن جائے۔
گھر میں مرد کا اصل کام آگ بجھانا ہے، لگانا نہیں۔ اس کا کام یہ نہیں کہ وہ ہر اختلاف میں اپنی طاقت دکھائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ انصاف کرے، معاملہ سنبھالے، گھر کو سکون دے، اور اپنی بیوی کے لیے پناہ بنے، خوف نہیں۔
اگر ساس اور بہو میں اختلاف ہو تو مرد کا کام بیوی کو تنہا چھوڑ دینا نہیں، بلکہ انصاف کے ساتھ پل بننا ہے۔ اگر بیوی غلطی کرے تو مرد کا کام اسے ذلیل کرنا نہیں، بلکہ سمجھانا ہے۔ اور اگر خود مرد غلطی کرے تو اس کا قد معافی مانگنے سے کم نہیں ہوتا، بلکہ بڑھتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں محافظ اور ظالم کا فرق واضح ہوتا ہے۔
پانچ کام جو کبھی نہ کرو
اگر آپ شوہر ہیں اور واقعی اپنے گھر کو ٹوٹنے سے بچانا چاہتے ہیں، تو کم از کم یہ پانچ کام فوراً بند کر دیں:
گالی مت دو
گالی صرف لفظ نہیں ہوتی، عزت پر حملہ ہوتی ہے۔
ہاتھ مت اٹھاؤ
جس ہاتھ کو حفاظت کرنی تھی، اگر وہی خوف بن جائے تو گھر گھر نہیں رہتا۔
خرچ مت روکو
بیوی کا بنیادی حق روک کر اسے ذلیل کرنا ظلم ہے، تربیت نہیں۔
سب کے سامنے بے عزت مت کرو
جو بات تنہائی میں کہی جا سکتی ہے، اسے مجمع میں کہنا کردار نہیں، کم ظرفی ہے۔
طلاق کی دھمکی کو ہتھیار مت بناؤ
ہر جھگڑے میں رشتہ توڑنے کی دھمکی عورت کے دل سے سکون، اعتماد اور تحفظ چھین لیتی ہے۔
پانچ کام جو ضرور کرو
اور اگر آپ واقعی اپنے گھر کو رحمت کی جگہ بنانا چاہتے ہیں، تو یہ پانچ کام اپنائیں:
نرمی سے بات کرو
سخت سچ بھی نرم لہجے میں کہا جا سکتا ہے۔
غلطی ہو تو معافی مانگو
معافی مانگنا کمزوری نہیں، پختگی ہے۔
عزت دو
عورت صرف بیوی نہیں ہوتی، ایک انسان بھی ہوتی ہے، اور عزت اس کا بنیادی حق ہے۔
خرچ پورا کرو
جو ذمہ داری اللہ نے آپ پر رکھی ہے، اسے احسان بنا کر پیش نہ کریں۔
اس کی کمزوریوں پر پردہ ڈالو
جو شوہر بیوی کی خامیوں کو لوگوں میں اچھالتا ہے، وہ رشتہ نہیں بچاتا، اسے زخمی کرتا ہے۔
آخری بات
گھر طاقت کا میدان نہیں، رحمت کی جگہ ہے۔
کسی عورت کا خاموش ہو جانا اس بات کی علامت نہیں کہ سب ٹھیک ہے۔ کبھی کبھی خاموشی اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ بول بول کر تھک چکی ہے۔ کسی بیوی کا ہر بات مان لینا اس کی رضا نہیں ہوتا، کبھی وہ صرف اس لیے خاموش ہوتی ہے کہ لڑتے لڑتے اس کے اندر کی طاقت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔
ثمینہ آج بھی کہیں بیٹھی ہوگی، شاید خاموش۔
نادیہ جیسی کوئی عورت آج بھی رات کے اندھیرے میں یہ سوچ رہی ہوگی کہ صبح کا سامنا کیسے کرے۔
اور رومانہ جیسی کوئی عورت شاید ابھی بھی فیصلہ کرنے اور برداشت کرتے رہنے کے درمیان کھڑی ہوگی۔
یہ زخم ہر کسی کو نظر نہیں آتے۔
مگر اللہ انہیں دیکھتا ہے۔
بیوی پر ظلم صرف ایک عورت کو نہیں توڑتا، پورے گھر کو توڑ دیتا ہے۔ آپ کے گھر کی دیواریں شاید خاموش رہیں، آپ کے بچے شاید ابھی کچھ نہ کہیں، آپ کی بیوی شاید برسوں برداشت کرتی رہے — مگر ظلم کبھی غائب نہیں ہوتا۔ وہ جسم میں اترتا ہے، یادوں میں رہ جاتا ہے، بچوں کی شخصیت میں جگہ بنا لیتا ہے، اور اللہ کے ہاں لکھ لیا جاتا ہے۔
اس لیے اگر آپ شوہر ہیں، تو اپنے آپ سے ایک سوال ضرور کیجیے:
آپ اپنی بیوی کے لیے سکون ہیں یا خوف؟
رحمت ہیں یا آزمائش؟
محافظ ہیں یا زخم؟
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔