Spread the love

خیالات کہاں سے آتے ہیں؟ یہ ہیں وہ 4 حیران کن وجوہات جو ہر سوچ بناتی ہیں

ثانیہ رات کو بستر پر لیٹی تھی۔ باہر سکون تھا، کمرے میں اندھیرا تھا، اور کوئی خاص بات بھی نہیں ہوئی تھی اس دن۔ پھر بھی اچانک ایک خیال اس کے ذہن میں اترا: “میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکوں گی۔” نہ کوئی واقعہ، نہ کوئی وجہ، نہ کوئی تازہ ناکامی۔ بس ایک جملہ، جو خود بخود بن گیا اور سینے پر بوجھ رکھ گیا۔

وہ کچھ دیر چھت کو دیکھتی رہی اور خود سے سوال کیا: “یہ خیال آیا کہاں سے؟ کیا میں نے خود اسے سوچا، یا یہ کہیں اور سے آیا اور بس مجھ پر اتر گیا؟”

یہ سوال اتنا سادہ لگتا ہے کہ اکثر لوگ کبھی پوچھتے ہی نہیں۔ ہم اپنی سوچوں کو ایسے قبول کر لیتے ہیں جیسے وہ کوئی حتمی سچائی ہوں۔ مگر نفسیات اس بارے میں ایک بالکل مختلف کہانی سناتی ہے۔ زیادہ تر خیالات اچانک، خلا سے، بغیر کسی پس منظر کے پیدا نہیں ہوتے۔ زیادہ تر سوچوں کے پیچھے ایک نظام کام کر رہا ہوتا ہے، جو ماضی، عقیدے، ماحول اور توجہ سے مل کر بنتا ہے۔

جدید نفسیاتی تحقیق کے مطابق ہمارے بہت سے خیالات دراصل خودکار خیالات

(Automatic Thoughts)

ہوتے ہیں، جن پر ماضی کے تجربات، بنیادی عقائد اور دماغ کے معلومات پراسیس کرنے کے طریقے گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ یہی تصور

Cognitive Behavioral Therapy

یعنی سی بی ٹی میں بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہمارا احساس اور رویہ اس بات سے کم اور اس بات سے زیادہ متاثر ہوتا ہے کہ ہم کسی واقعے کی تشریح کیسے کرتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم اسی نظام کو کھول کر دیکھیں گے، تاکہ اگلی بار جب کوئی تکلیف دہ خیال آئے، آپ کو معلوم ہو کہ خیالات کہاں سے آتے ہیں اور ان پر کتنا یقین کرنا چاہیے۔

خیال کیا ہے؟

خیال دماغ کی وہ فوری تشریح ہے جو ماضی کے تجربات، بنیادی عقائد، ماحول اور توجہ کی بنیاد پر کسی صورتحال کے بارے میں بنتی ہے۔

خیال کوئی الگ، آزاد چیز نہیں ہے جو ہوا میں تیرتی ہو۔ خیال دراصل دماغ کی ایک تیاری ہے، ایک خلاصہ، جو کسی صورتحال کو سمجھنے کے لیے فوری طور پر بنایا جاتا ہے۔

سوچیں ذرا اس عمل کو۔ جب کوئی واقعہ پیش آتا ہے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، دماغ فوراً اپنے پرانے ذخیرے میں جاتا ہے۔ وہاں محفوظ تجربات، سیکھی ہوئی باتیں، احساسات اور یادیں پڑی ہوتی ہیں۔ دماغ ان سب کو اکٹھا کرتا ہے، موجودہ صورتحال سے جوڑتا ہے، اور پھر ایک مختصر جملے یا تصویر کی شکل میں ہمارے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ اسی کو ہم خیال یا سوچ کہتے ہیں۔

دماغ توانائی بچانے کے لیے شارٹ کٹ استعمال کرتا ہے، اسی لیے وہ بعض اوقات مکمل حقیقت کے بجائے فوری اندازہ لگا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عمل اتنی تیزی سے ہوتا ہے کہ ہمیں لگتا ہے سوچ نے خودبخود جنم لیا، حالانکہ حقیقت میں یہ ایک پیچیدہ، خودکار کارروائی کا نتیجہ ہوتی ہے، جو ہماری آگاہی کے بغیر مکمل ہو جاتی ہے۔ نفسیات میں اسے ہی خودکار خیالات کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دو لوگ ایک ہی واقعے پر بالکل مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ان کا واقعہ ایک ہے، مگر ان کے دماغ میں محفوظ ماضی اور بنیادی عقائد مختلف ہیں، اس لیے نتیجہ بھی مختلف نکلتا ہے۔

اب آئیے ان چار بنیادی ذرائع کو تفصیل سے سمجھتے ہیں جو مل کر زیادہ تر خیالات کی تشکیل کرتے ہیں۔

پہلا ذریعہ: پچھلے تجربات، جو کبھی ختم نہیں ہوتے

عادل کی کہانی

عادل یونیورسٹی کے دوسرے سال میں تھا جب اسے کلاس کے سامنے ایک پریزنٹیشن دینی پڑی۔ وہ گھبرایا ہوا تھا، الفاظ اٹک رہے تھے، اور بیچ میں ہی وہ اپنی ترتیب بھول گیا۔ کچھ طالب علموں نے ہنسنا شروع کر دیا۔ عادل نے کسی طرح پریزنٹیشن مکمل کی، مگر وہ لمحہ اس کے ذہن میں گہرائی سے بیٹھ گیا۔

اس واقعے کے کئی سال بعد، جب عادل ایک کامیاب پیشہ ور بن چکا تھا، اسے دفتر میں ایک اہم میٹنگ میں بولنے کا کہا گیا۔ اچانک اس کا دل تیز دھڑکنے لگا اور ذہن میں خودبخود خیال آیا: “میں یہ نہیں کر پاؤں گا، سب مجھ پر ہنسیں گے۔” یہ خیال نیا نہیں تھا۔ یہ برسوں پرانے اس واقعے کی بازگشت تھی، جو اب بھی اس کے دماغ کے کسی کونے میں محفوظ تھی۔

نفسیاتی وضاحت

دماغ ہر تجربے کو، خاص طور پر جذباتی طور پر شدید تجربات کو، محفوظ کر لیتا ہے تاکہ مستقبل میں اسی طرح کی صورتحال سے بچا جا سکے۔ یہ ایک حفاظتی نظام ہے۔ دماغ کا مقصد یہ نہیں کہ ہمیں تکلیف دے، بلکہ یہ کہ ہمیں دوبارہ اسی درد سے بچائے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہ نظام حد سے زیادہ حساس ہو جائے اور ہر ملتی جلتی صورتحال کو خطرہ سمجھ کر پرانا خوف دوبارہ سامنے لے آئے، چاہے موجودہ حالات بالکل مختلف ہوں۔

یعنی یہ خیال موجودہ حقیقت سے زیادہ ماضی کے تجربے کی بازگشت ہو سکتا ہے۔

دوسرا ذریعہ: یقین اور بنیادی عقائد، وہ عینک جس سے ہم دنیا دیکھتے ہیں

ہر انسان کے اندر کچھ بنیادی عقائد یعنی Core Beliefs ہوتے ہیں: اپنے بارے میں، دوسروں کے بارے میں، اور اس دنیا کے بارے میں۔ یہ عقائد اکثر بچپن میں بنتے ہیں، ہمارے تجربات، تربیت اور اردگرد کے ماحول سے۔

احسن کی کہانی

احسن کا بچپن ایک ایسے گھر میں گزرا جہاں محبت کا اظہار بہت کم ہوتا تھا۔ کامیابی پر تعریف ملتی، مگر ناکامی پر سرزنش۔ آہستہ آہستہ احسن کے اندر ایک بنیادی عقیدہ بن گیا: “میری قدر صرف اس وقت ہے جب میں کچھ اچھا کر دکھاؤں۔” یہ عقیدہ اتنا گہرا تھا کہ اسے خود بھی محسوس نہیں ہوتا تھا، مگر یہ اس کی زیادہ تر سوچ کو رنگ دیتا تھا۔

جب احسن سے کسی دوست نے ملنے کا وعدہ کیا اور پھر مصروفیت کی وجہ سے نہ آ سکا، تو احسن کے ذہن میں فوراً خیال آیا: “شاید میں اتنا اہم نہیں ہوں کہ لوگ میرے لیے وقت نکالیں۔” یہ خیال حقیقت پر نہیں، بلکہ اس کے پرانے بنیادی عقیدے پر مبنی تھا۔ دوست کی مصروفیت کا اس کی اہمیت سے کوئی تعلق نہیں تھا، مگر احسن کا ذہن اس واقعے کو اپنے پرانے سانچے میں ڈھال چکا تھا۔

نفسیاتی وضاحت

بنیادی عقائد ایک فلٹر کی طرح کام کرتے ہیں۔ ہم دنیا کو ویسے نہیں دیکھتے جیسی وہ حقیقت میں ہے، بلکہ ویسے دیکھتے ہیں جیسا ہمارا اندرونی یقین ہمیں دکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی جملہ دو مختلف لوگوں پر بالکل مختلف اثر ڈالتا ہے۔ جس شخص کا یقین صحت مند ہو، وہ تنقید کو رہنمائی سمجھتا ہے۔ جس کا یقین ٹوٹا ہوا ہو، وہی تنقید اسے مکمل رد سمجھ آتی ہے۔

خوشخبری یہ ہے کہ بنیادی عقیدہ پتھر پر لکیر نہیں ہوتا۔ یہ سیکھا ہوا ہوتا ہے، اور جو چیز سیکھی جا سکتی ہے، وہ دوبارہ سیکھی بھی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے وقت اور مسلسل کوشش درکار ہوتی ہے، مگر یہ ممکن ہے۔

یعنی یہ خیال دراصل کسی پرانے، اکثر بچپن سے چلے آ رہے یقین کی جھلک ہو سکتا ہے، نہ کہ موجودہ صورتحال کی درست تصویر۔

تیسرا ذریعہ: ماحول، وہ خاموش استاد جو ہمیں مسلسل سکھاتا رہتا ہے

حنا کی کہانی

حنا کی ایک قریبی دوست تھی جو ہر ملاقات میں شکایتوں کا انبار لگا دیتی۔ کبھی نوکری کا رونا، کبھی رشتوں کی شکایت، کبھی زندگی کے بارے میں مایوسی۔ حنا نوٹ کرتی کہ جب بھی وہ اس دوست سے مل کر آتی، اگلے کئی گھنٹے اس کا اپنا موڈ بھی خراب رہتا اور وہ خود بھی اپنی زندگی کی کمیوں کے بارے میں سوچنے لگتی۔

یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔ انسانی دماغ اردگرد کے ماحول سے مسلسل سیکھتا رہتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں سے جن کے ساتھ ہم زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ جس طرح کی باتیں ہم سنتے ہیں، جس قسم کی سوچ ہمارے سامنے بار بار دہرائی جاتی ہے، دماغ اسے معمول سمجھ کر اپنانا شروع کر دیتا ہے۔ یہ عمل اتنا خاموش اور بتدریج ہوتا ہے کہ ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہماری اپنی سوچ کب دوسروں کی سوچ کا عکس بن گئی۔

نفسیاتی وضاحت

یہی اصول سوشل میڈیا پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص روزانہ ایسا مواد دیکھتا ہے جو موازنہ، عدم تحفظ یا مایوسی کو ہوا دیتا ہے، تو اس کے ذہن میں بھی وہی منفی خیالات بار بار جنم لیں گے۔ ماحول صرف لوگوں تک محدود نہیں، بلکہ وہ ہر چیز ہے جو ہم روزانہ اپنے ذہن میں داخل کرتے ہیں: جو کتابیں پڑھتے ہیں، جو ویڈیوز دیکھتے ہیں، جن آوازوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔

سانیہ نے جب محسوس کیا کہ وہ روز بروز زیادہ مایوس رہنے لگی ہے، تو اس نے ایک تجربہ کیا۔ اس نے دو ہفتوں کے لیے اپنے اردگرد کے منفی ماحول سے تھوڑا فاصلہ رکھا اور اس کی جگہ ایسے لوگوں اور مواد کو دیا جو حوصلہ افزا تھا۔ نتیجہ حیران کن تھا: اس کے روزمرہ خیالات میں واضح تبدیلی آئی، بغیر کسی بڑی زندگی کی تبدیلی کے۔ صرف ماحول بدلنے سے سوچ کی تشکیل کا رخ بدل گیا۔

یعنی یہ خیال آپ کی اپنی ذات کی نہیں بلکہ آپ کے ماحول کی آواز ہو سکتا ہے۔

چوتھا ذریعہ: توجہ، جو طے کرتی ہے ہم کیا دیکھتے ہیں

بلال کی کہانی

بلال کو جب نئی گاڑی خریدنے کا خیال آیا، تو اگلے کچھ ہفتوں میں اسے ہر گلی، ہر سڑک پر وہی ماڈل کی گاڑی نظر آنے لگی۔ کیا وہ گاڑیاں پہلے موجود نہیں تھیں؟ بالکل موجود تھیں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اب بلال کی توجہ ان پر مرکوز ہو چکی تھی۔

نفسیاتی وضاحت

یہی اصول ہماری سوچ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جس چیز پر ہم اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں، دماغ اسی سے متعلقہ مزید معلومات تلاش کرنے لگتا ہے اور باقی سب کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص خود کو ناکام سمجھتا ہے، تو اس کا دماغ ہر چھوٹی ناکامی کو نمایاں طور پر یاد رکھے گا اور کامیابیوں کو معمولی سمجھ کر بھلا دے گا۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس شخص کے پاس اپنی ناکامی کے حق میں “ثبوتوں” کا انبار جمع ہو جائے گا، حالانکہ حقیقت میں تصویر کہیں زیادہ متوازن تھی۔

اس کے برعکس، جو شخص شکرگزاری کی عادت اپناتا ہے، اس کا دماغ روزانہ کی چھوٹی چھوٹی اچھی باتوں کو تلاش کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ کوئی جادو نہیں، بلکہ توجہ کے نظام کا فطری اصول ہے۔ ہم جس چیز کو بار بار دیکھنے کی مشق کرتے ہیں، دماغ اسی کو تلاش کرنے میں ماہر ہو جاتا ہے۔

یعنی یہ خیال حقیقت کی مکمل تصویر نہیں، بلکہ صرف اس حصے کی تصویر ہے جس پر ہماری توجہ مرکوز تھی۔

شعور اور لاشعور: دو ذہن جو مل کر ایک سوچ بناتے ہیں

اب تک ہم نے جن چار ذرائع کی بات کی، ان سب کا تعلق دماغ کے دو مختلف حصوں سے ہے: شعوری ذہن اور لاشعوری ذہن۔

شعوری ذہن وہ حصہ ہے جس سے ہم واقف ہیں۔ یہ سوچتا ہے، فیصلہ کرتا ہے، منطق لگاتا ہے، اور الفاظ میں سوچ کو ترتیب دیتا ہے۔ جب ہم کسی مسئلے پر جان بوجھ کر غور کرتے ہیں، وہ شعوری ذہن کا کام ہے۔

مگر اس کے پیچھے ایک اور بہت بڑا حصہ کام کر رہا ہوتا ہے، جسے لاشعور کہتے ہیں۔ لاشعور وہ جگہ ہے جہاں پرانی عادتیں، محفوظ شدہ احساسات، خودکار ردعمل اور برسوں کی سیکھی ہوئی باتیں ذخیرہ ہوتی ہیں۔ زیادہ تر خودکار خیالات دراصل شعوری کوشش سے نہیں بنتے، بلکہ لاشعور سے خودبخود ابھرتے ہیں اور شعور تک پہنچ جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ثانیہ کو رات کو اچانک منفی خیال آیا، بغیر کسی وجہ کے۔ اس کا شعوری ذہن اس وقت آرام کی حالت میں تھا، مگر لاشعور نے دن بھر کے کسی چھوٹے سے واقعے، کسی پرانے بنیادی عقیدے، یا کسی اندرونی خدشے کو جوڑ کر ایک جملہ بنا دیا اور اسے شعور کے سامنے پیش کر دیا۔ ثانیہ کو لگا کہ یہ خیال اسی وقت پیدا ہوا، حالانکہ اس کی جڑیں کہیں گہری تھیں۔

اس فرق کو سمجھنا بہت اہم ہے، کیونکہ اس سے ہمیں یہ سمجھ آتی ہے کہ ہر خیال پر فوری یقین کرنا ضروری نہیں۔ لاشعور ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔ وہ پرانے ڈیٹا پر کام کرتا ہے، اور بعض اوقات وہ ڈیٹا خود ہی غلط یا پرانا ہو چکا ہوتا ہے۔

ذہنی صحت پر ان خودکار خیالات کا اثر

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خودکار خیالات صرف ایک نفسیاتی تصور نہیں، بلکہ ان کا براہ راست تعلق ہماری

ذہنی صحت سے ہے۔ جب کوئی شخص مسلسل منفی خیالات کا شکار رہتا ہے، اور انہیں بغیر جانچے حقیقت مان لیتا ہے، تو وقت کے ساتھ یہ خیالات اس کے مزاج، خود اعتمادی اور رشتوں پر گہرا اثر ڈالنے لگتے ہیں۔

ہر خودکار خیال غلط نہیں ہوتا، لیکن ہر خودکار خیال درست بھی نہیں ہوتا۔ یہ

CBT

کا بنیادی اصول ہے۔ سی بی ٹی جیسے علاج کے طریقوں میں سب سے پہلا قدم یہی ہوتا ہے کہ فرد کو یہ سکھایا جائے کہ اس کے خودکار خیالات کہاں سے آ رہے ہیں اور وہ کس بنیادی عقیدے سے جڑے ہیں۔ جب انسان یہ تعلق سمجھ لیتا ہے، تو وہ اپنی سوچ سے تھوڑا فاصلہ رکھ سکتا ہے، جسے نفسیات میں علیحدگی یا

Cognitive Distancing

کہا جاتا ہے۔

یہ عمل جادوئی طور پر تکلیف ختم نہیں کرتا، مگر یہ انسان کو یہ طاقت دیتا ہے کہ وہ اپنی سوچ کا قیدی بننے کے بجائے اس کا مشاہدہ کرنے والا بن جائے۔

ذہنی تدارک: جب سوچ پر فوراً یقین نہ کریں

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: اگر ہر خیال حقیقت نہیں، تو ہم کیسے پہچانیں کہ کس خیال پر توجہ دینی ہے اور کس پر نہیں؟

اس کا ایک سادہ طریقہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی منفی یا فیصلہ کن خیال ذہن میں آئے، خود سے پوچھیں: “کیا یہ حقیقت ہے، یا صرف میرے دماغ کی ایک تشریح؟” یہ سوال چھوٹا لگتا ہے، مگر یہ ذہن کو خودکار ردعمل سے ہٹا کر تھوڑا سا رک کر سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر خیال آئے “میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکوں گا،” تو اس کے پیچھے پوچھیں: یہ خیال کس پرانے تجربے سے جڑا ہو سکتا ہے؟ کیا یہ کسی پرانے بنیادی عقیدے کی بازگشت ہے؟ کیا یہ ماحول کا اثر ہے؟ یا میری توجہ صرف ناکامیوں پر مرکوز ہے اور کامیابیاں نظر انداز ہو رہی ہیں؟

عملی مشق: آج رات آزمانے کے لیے

آج دن میں جو بھی خیالات ذہن میں آئے، خاص طور پر وہ جو غیر ضروری طور پر پریشان کن تھے، ان میں سے کسی ایک کو نوٹ کریں۔ پھر ان چار سوالوں پر غور کریں:

پہلا، یہ سوچ کس تجربے، بنیادی عقیدے یا حالیہ ماحول سے جڑی ہو سکتی ہے؟ دوسرا، اگر میرا کوئی قریبی دوست یہی خیال میرے ساتھ شیئر کرتا، تو میں اسے کیا جواب دیتا؟ تیسرا، اگر میں اسی صورتحال کو تھوڑا فاصلے سے، ایک باہر والے کی نظر سے دیکھوں، تو کیا میری رائے مختلف ہوگی؟ چوتھا، کیا میری توجہ صرف منفی پہلو پر مرکوز ہے، جبکہ مثبت پہلو نظر انداز ہو رہا ہے؟

یہ مشق روزانہ صرف چند منٹ لیتی ہے، مگر وقت کے ساتھ یہ آپ کو اپنی سوچ کا غلام بننے کے بجائے اس کا مشاہدہ کرنے والا بنا دیتی ہے۔

یاد رکھنے والی بات

ہر خیال حقیقت نہیں ہوتا۔ یہ صرف دماغ کی ایک تشریح ہے، جو ماضی کے تجربات، سیکھے ہوئے بنیادی عقائد، اردگرد کے ماحول اور موجودہ توجہ کے ملاپ سے بنتی ہے۔ یہ تشریح کبھی درست ہوتی ہے اور کبھی مکمل طور پر غلط۔ خیال کو حقیقت سمجھ لینا ہی اکثر لوگوں کی ذہنی تکلیف کی جڑ بنتا ہے۔

یہ سمجھنا کہ خیالات کہاں سے آتے ہیں، کوئی نظری معلومات نہیں بلکہ ایک عملی ہتھیار ہے۔ جب آپ جان جاتے ہیں کہ کوئی خاص خیال دراصل کسی پرانے زخم، غلط بنیادی عقیدے یا محدود توجہ کا نتیجہ ہے، تو آپ اس پر اندھا اعتماد کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ اسے سنتے ہیں، مگر اس کے تابع نہیں رہتے۔

آخری بات: ایک چھوٹا قدم آج کے لیے

آپ کا ذہن جھوٹا نہیں، مگر ہمیشہ درست بھی نہیں۔ زیادہ تر سوچوں کے پیچھے ایک وجہ ہوتی ہے، اور یہ وجہ سمجھنا آپ کو آزاد کرتا ہے۔ ثانیہ نے جب یہ سمجھا کہ اس کا رات والا خیال دراصل ایک پرانے بنیادی عقیدے کی بازگشت تھا، نہ کہ کوئی حتمی سچائی، تو وہ اطمینان سے سو گئی۔

آج رات جب کوئی تکلیف دہ خیال آئے، رک جائیں اور خود سے صرف ایک سوال پوچھیں: “کیا یہ حقیقت ہے، یا صرف ایک سوچ؟” یہ ایک چھوٹا سا سوال ہے، مگر یہی وہ پہلا قدم ہے جو آپ کو اپنی سوچ کا قیدی بننے کے بجائے اس کا سمجھدار مالک بنا دیتا ہے۔

حوالہ

اس مضمون میں بیان کیے گئے تصورات جدید

Cognitive Behavioral Therapy (CBT) اور Automatic Thoughts

کے معروف نفسیاتی نظریات پر مبنی ہیں، جنہیں

Aaron T. Beck

Judith S. Beck

نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔

اہم گزارش: اگر منفی خیالات مسلسل آتے رہیں، روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے، نیند اور کام پر اثر پڑنے لگے، یا خود کو نقصان پہنچانے جیسے خیالات آنے لگیں، تو براہ کرم کسی مستند ماہرِ نفسیات یا ذہنی صحت کے پیشہ ور سے ضرور رابطہ کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top