اپنی زندگی اپنی حدود : دوسروں کو خوش رکھنے کا بوجھ کیسے اتاریں: 5 عملی طریقے
ہر بات پہ ہاں کہنا ضروری ہے۔ اور ہر بات پر ہاں کہنے والا ہی اچھا انسان بنتا ہے۔ اپنی ترجیحات کو چھوڑ کر دوسروں کو خوش کرنے کے چکر میں ہر وقت ہاں کہنا ہر کام کے لیے ہم ہی بھر لینا ہی اچھے انسان کی نشانی ہے۔ اس طرح ہم اپنی .زندگی کی ڈور دوسروں کے ہاتھ میں نہیں دے دیتے کیا؟?؟ اپنی زندگی اپنی حدود پر عمل کریں
آج ہم بات کریں گے اپنی زندگی اپنی حدود اور دوسروں کو خوش رکھنے کا بوجھ کیسے اتاریں 5 عملی طریقے جو آپ کو کافی مدد دینے والے ہیں۔ ہم میں سے ہی اکثر لوگ ایک خاموش تھکاوٹ کے ساتھ جیتے ہیں۔ وہ تھکاوٹ جو کسی کام سے نہیں آتی بلکہ ہر وقت دوسروں کی توقعات پہ پورا اترنے کی کوشش سے اتی ہے۔ وہ تھکاوٹ ہمیں ذہنی طور پر اتنا تھکا دیتی ہے اتنا تھکا دیتی ہے کہ ہم چاہ کر بھی خوش نہیں ہو پاتے۔ اپنی زندگی اپنی حدود یہ اج کی ضرورت ہے۔
آج ایک فیصلہ کریں سب سے پہلے ایک فیصلہ اور یہ کہ خود سے محبت کریں گے خود سے پیار کریں اپنی زندگی سے اپنی شخصیت سے اپنے آپ سے پیار کریں۔ یہ بات کہنے کی وجہ صرف اتنی ہے کہ جو خود سے پیار نہیں کر سکتا وہ کسی اور کو سچی خوشی کیا دے گا۔ سب سے پہلے خود کو خوش کرنا سیکھیں خود کو خوشی دینا سیکھیں۔ اپنے اندر کو اپنے اندر کے انسان کو خوشی دینا سیکھیں ورنہ آپ بیمار ہو جائیں گے اور ذہنی بیمار ہو جائیں گے۔ اور اس وقت 60 فیصد لوگ اسی کیفیت کا شکار ہیں۔ اتنی تھکاوٹ ہو جائے گی کہ کسی کام میں دل نہیں لگے گا اور پھر بھی آپ کام کرتے رہیں گے .کیونکہ آپ کو” نہ” کہنے کی عادت نہیں ہے۔ اپنی زندگی اپنی حدود پر عمل کریں .اپنی زندگی اپنی حدود والا اصول اگر آپ اپنے اوپر لاگو کرتے ہیں تو لوگوں کے دل میں آپ کے لیے احترام پیدا ہوگا کیونکہ جو خود کا احترام نہیں کرتا اس کا احترام لوگ بھی نہیں کرتے۔ اس لیے اپنی زندگی اپنی حدود یہ اصول سب سے اچھا ہے آج کے ظالم زمانے کے لیئے۔
دوسروں کو خوش کرنے کا بوجھ کہاں سے آتا ہے؟؟؟
اس جدید دور میں بھی بچپن سے ہی بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ اچھا بچہ وہ ہے جو سب کو خوش رکھے۔ وہ کیوں بھائی کیوں خوش رکھنا ہے کس وجہ سے خوش رکھنا ہے۔ سب کو خوش کرنے کا ٹھیکہ ہم نہیں اٹھایا ہوا ہے۔ سب کے اداس چہرے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ اپنے بچوں کی تربیت بھی اس اصول پر کریں کہ اپنی زندگی اپنی حدود ہیں اپنی حدود سے کسی کو کراس نہیں کرنے دینا۔ ایسا بالکل نہیں ہے لیکن ہمارے اندر یہ چیزیں بھر دی جاتی ہیں اور ہم بڑے ہو رہے ہوتے ہیں جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیں یہ بوجھ بھی ہمارے ساتھ ہی بڑا ہوتا ہے اور ہمیں “نہیں” کہنا زیادہ مشکل لگتا ہے۔ ہم اپنی ضرورت کو پہلے کہیں رکھتے ہی نہیں ہیں ہمیں اپنی ضرورت کو پہلے رکھنا عجیب سا محسوس ہوتا ہے گناہ جیسا لگتا ہے۔ کیوں بھئی کیوں کس لیے؟؟؟؟؟ اپنی زندگی اپنی حدود کا مطلب اپ کی اپنی ذہنی صحت اور ذہنی سکون ہے۔
حد مقرر کرنا خود غرضی نہیں، ضرورت ہے
ایک بات غور سے سنیے ہماری زندگی ہماری ذمہ داری ہے ہماری ذہنی صحت کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر آپ اپنی ذہنی صحت کی حفاظت نہیں کریں گے آپ ایک عجیب و غریب قسم کی ذہنی حالت میں چلے جائیں گے۔ آپ لوگوں کو نہ کرنا نہیں سیکھیں گے آپ لوگوں کی حدود مقرر نہیں کریں گے تو آپ اپنی زندگی کی ڈوریں اگلے لوگوں کے ہاتھ میں دے دیں گے۔ پھر لوگوں کی مرضی ہے کیسے آپ کے ساتھ رہیں کیسے آپ کے ساتھ برتاؤ کریں۔ پھر لوگ صرف اتنا ہی کرتے ہیں کہ اپنا فائدہ نکالتے ہیں اور اپ کو کِک کروا دیتے ہیں۔
جب آپ اپنی حدود واضح کرتے ہیں تو لوگ آپ کی عزت کرنا شروع کر دیتے ہیں اور وہ سیکھتے ہیں، ان کو سیکھنا پڑتا ہے کہ آپ کی عزت کرنی ہے آپ کا وقت ضائع نہیں کرنا، آپ کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کرنے سے پہلے 10 بار سوچتے ہیں۔اپنی زندگی اپنی حدود یہ اج کی ضرورت ہے۔
جب آپ اپنی حدود واضح کرتے ہیں تو لوگ آپ کی عزت کرنا شروع کر دیتے ہیں اور وہ سیکھتے ہیں، ان کو سیکھنا پڑتا ہے کہ آپ کی عزت کرنی ہے آپ کا وقت ضائع نہیں کرنا، آپ کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کرنے سے پہلے 10 بار سوچتے ہیں۔ یاد رکھو آپ ایک قابل احترام انسان ہو اور اس کے لیے حدود واضح کرنی پڑیں گی لوگوں کو “نہیں” کے لفظ میں جواب دینا سیکھنا پڑے گا۔خود سے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اپنی زندگی اپنی حدود پر عمل کریں گے۔ اور کسی کو اپنے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے۔
ہر وقت “ہاں” کہنے کی بھاری قیمت
جب کوئی انسان ہر کام کے لیے ہاں کہتا ہے تو اس کو اس کی قیمت اپنے ذاتی کاموں اور سکون کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے پھر یہ لوگوں کے کام کرتے کرتے اپنی ہی زندگی میں بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ خود کو پیچھے رکھ دوسروں کے کام کرنا بند کرو اپنے آپ کو اولین ترجیح دو آپ کی زندگی سب سے پہلے ہے آپ کا سکون سب سے پہلے ہے۔
یہ بوجھ اتارنے کے عملی طریقے
کوشش کر کے ان پانچ طریقوں پر عمل کریں انشااللٌٰہ آپ کی زندگی میں سکون آنا شروع ہو جائے گا۔
خود سے پہلے پوچھیں
ہم انسان ہیں ہم روبوٹ نہیں ہیں کہ کوئی ہمیں کوئی بھی بات بولے گا تو ہم اسی پہ من و عن عمل کریں گے۔ ہم مشین نہیں ہیں سب سے پہلے کوئی بھی کام کرنے سے پہلے جب بھی کوئی کام آپ کو بولتا ہے تو وہ کام کرنے سے پہلے یہ سوچو کہ کیا میں یہ کام دل سے کر رہا ہوں یا صرف ڈر کی وجہ سے؟؟؟
“نہیں” کہنا سیکھیں نرمی مگر مضبوطی کے ساتھ
کسی کو بھی “نہیں” کہنا کسی قسم کی کوئی بدتمیزی نہیں ہے۔ لیکن “نہیں” کہنے کا انداز بہت نرم ہونا چاہیے مضبوط ہونا چاہیے۔ “نہیں” بولتے ہوئے کسی قسم کی لہجے میں بدتمیزی نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایک طرح کا مضبوط لہجہ ہونا چاہیے۔
“نہیں” ایک مکمل جملہ ہے۔ ہر بار لمبی وضاحتیں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ “میں ابھی نہیں کر سکتا” یا “میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے” بالکل کافی ہے۔ اس کے بعد آپ کا مینٹل لیول چینج ہو جائے گا آپ سکون فیل کرو گے ہر وقت کی ٹینشن سے جان چھوٹنا شروع ہو جائے گی۔ اپنی زندگی اپنی حدود پر عمل کریں
اپنے آپ کو راضی رکھیں
خالی برتن میں سے کچھ نہیں نکالا جا سکتا۔ جو خود ٹوٹا ہوا ہے وہ کسی کو کیا سنبھالے گا۔ جو خود سے محبت نہیں کر سکتا کسی اور کو محبت کہہ دے گا۔ جو خود کی حفاظت نہیں کر سکتا کسی اور کی کیا حفاظت کرے گا۔ جو اپنے لیے وقت نہیں نکال سکتا اپنے آرام کو مینیج نہیں کر سکتا اپنی پسند کی چیز نہیں خرید سکتا وہ کسی کے لیے کیا کرے گا۔ اپنے اپ کے لیے وقت نکالنا اپنی پسند کی چیز خریدنا آرام کرنا سکون کرنا اپنے آپ کو وقت دینا یہ عیاشی نہیں ہے یہ ضرورت ہے۔ اپنی ضرورت کا خود خیال رکھیں۔
سب کو خوش کرنے کی کوشش چھوڑ دیں
کیا آپ خود کو ازاد کرنا چاہتے ہیں؟؟؟ ایک سچ ہے جسے آپ قبول کر لو تو اپ کو آزادی محسوس ہو سکتی ہے۔ ہر انسان اپنی خوشی کا خود ذمہ دار ہے۔ اور اپنے غم کا بھی خود ذمہ دار ہے۔ آپ کسی کی خوشیوں کے مالک نہیں ہیں اور اپ کسی کے غم کے حصے دار نہیں ہیں۔ ایک سچ قبول کرو اور وہ سچ یہ ہے کہ اپ سب کو خوش نہیں رکھ سکتے۔ اس لیے سب کو خوش کرنا چھوڑ دو۔ بلکہ خود کی خوشی کے لیے خود پر توجہ دو۔خود سے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اپنی زندگی اپنی حدود پر عمل کریں گے۔ اور کسی کو اپنے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے۔ اپنی زندگی اپنی حدود پر .عمل کریں
اپنے آپ کو مجرم سمجھنا بند کریں
یار کیا خود کا خیال رکھنا یا خود کو سکون دینا کوئی جرم ہے؟؟؟ یا یہ کسی قسم کی کوئی خودغرضی ہے؟؟؟ بالکل نہیں۔ جب آپ ذہنی طور پر مضبوط ہوں گے جب آپ خود ٹھیک ہوں گے جب آپ خود خوش ہوں گے تو کسی اور کے کام آئیں گے تو آپ دوسروں کا خیال رکھ سکیں گے۔ سب سے پہلے خود کا خیال رکھنا سیکھو اس کے بعد آپ دوسروں کا خیال رکھیں گے دکھاوے سے نہیں دل سے رکھیں گے سکون بھی ملے گا۔
رشتے ٹوٹ جائیں گے؟؟؟
کیا اس جدید دور میں بھی کوئی ایسا رشتہ ہے جو صرف آپ قربانی دیتے رہو اور قائم رہے؟؟؟ کوئ رشتہ صرف آپ کی قربانی کے ساتھ قائم رہتا ہے خود سے سوچیں خود سے سوال کریں خود بیٹھ کے غور کریں کہ کیا وہ ایک سچا رشتہ .ہے؟؟؟ اپنی زندگی اپنی حدود پر عمل کریں
جو سچے رشتے ہوتے ہیں وہ آپ کی حدود کو سمجھتے ہیں آپ کے احترام کو سمجھتے ہیں آپ کی عزت کا خیال رکھتے ہیں آپ کے سکون کا خیال رکھتے ہیں اور اپنی اور آپ کی حدود کو توڑنے کی کوشش نہیں کرتے۔

اختتام
جو لوگ آپ کی عزت آپ کے احترام اور آپ کے سکون کا خیال نہیں رکھتے وہ دراصل اپ کی قدر نہیں کرتے۔ اپنی زندگی کے تمام فیصلوں کا اختیار اپنے ہاتھ میں لینا ہی ایک پرسکون اور کامیاب زندگی کی جانب پہلا قدم ہے۔ اپ کسی کی خوشی کا آلہ نہیں ہے۔ آپ ایک خود مکمل انسان ہیں، جس کی اپنی ضروریات، احساسات، خواب، عزت، احترام، وقار اور حدود ہیں۔
اس لیے مشورہ اور ایمانداری والی بات یہ ہے کہ اپنی زندگی جیو پوری سچی اور اپنی شرطوں پر یہی سب سے بڑی خدمت ہے اپ کی اپنے لیے بھی اور ان کے لیے بھی جو آپ سے پیار کرتے ہیں۔
جو آپ سے پیار نہیں کرتا اس کو پیار مت کرو۔
جو اپ کو عزت نہیں دیتا اپ اس کی بے عزتی نہیں کرو لیکن اس سے تھوڑا سا دور ہو جاؤ۔ شاید اس کو خیال آ جائے۔خود سے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اپنی زندگی اپنی حدود پر عمل کریں گے۔ اور کسی کو اپنے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے۔ اپنی زندگی اپنی حدود نہیں ہوگی تو لوگ آپ کی حدود قائم کریں گے اور وہ بہت تکلیف دہ ہوگا۔اپنی زندگی اپنی حدود : دوسروں کو خوش رکھنے کا بوجھ کیسے اتاریں: 5 عملی طریقے یہ ارٹیکل اپ کو فیصلے کرنے میں انشاءاللہ مدد دے گا۔
اگر تحریر اچھی لگے تو اس لنک پر کلک کر کے اپ ہماری دوسری تحریر دکھاوے کی زندگی اور ٹوٹتے رشتے بھی پڑھ سکتے ہیںhttps://reflectinside.com/%d8%af%da%a9%da%be%d8%a7%d9%88%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c/