آج ہم بات کریں گے دکھاوے کی زندگی، فضول خرچی اور ٹوٹتے ہوئے رشتے پر۔ یہ ایک آج کا بہت اہم موضوع ہے۔ آج کل سوشل میڈیا اور دکھاوے کی زندگی نے لوگوں کی ترجیحات بدل دی ہیں۔ ہر شخص امیر نظر آنا چاہتا ہے، چاہے حقیقت میں اس کی مالی حالت کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو۔ لوگ دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے فضول خرچی کرتے ہیں، لیکن اکثر اپنے ہی گھر والوں کی ضروریات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی غلط ترجیحات آہستہ آہستہ رشتوں میں دوریاں، مالی دباؤ اور ذہنی سکون کی کمی پیدا کرتی ہیں۔
گھر والوں کو نظر انداز کرنا اور دکھاوے کی زندگی
ہمارے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے ، یا آپ سب کے مشاہدے میں بھی یہ ایک بات ضرور آئی ہوگی کہ لوگ باہر زیادہ خرچہ کر دیتے ہیں لیکن گھر والوں کو ایک ایک روپے کے لیے ٹینشن دیتے ہیں ان کو سکون نہیں دیتے ان کو مکمل کرچہ نہیں دیتے اور آج بہت سے لوگ باہر والوں کے سامنے خود کو بڑا ظاہر کرنے میں مصروف ہیں، لیکن گھر کے اندر ان کے اپنے لوگ بنیادی چیزوں کے لیے پریشان ہوتے ہیں۔ بیوی گھر کے اخراجات کے بارے میں سوچ رہی ہوتی ہے، بچے اپنی ضروریات چھپا رہے ہوتے ہیں، مگر انسان دوستوں اور وقتی تعلقات پر پیسہ خرچ کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گھریلو ذمہ داریوں سے بھاگنے والا انسان وقتی طور پر تو خوش رہ سکتا ہے، لیکن اندر سے کبھی مطمئن نہیں رہتا۔
وقتی تعلقات اور جھوٹی بناوٹی محبت
میں نے خود دیکھا ہے ایک انسان کو جو ایک بینک میں کام کرتا تھا اور وہ بڑے اچھے طریقے سے اپنے زہریلے رشتوں کو نبھاتا تھا لیکن فیملی کو ٹائم نہیں دینا فیملی کو مکمل خرچہ نہیں دینا اس کی بیوی گھر میں ٹینشن لے کے بیٹھی ہے لیکن وہ باہر اپنے حساب سے چل رہا ہے تو جب تک تو وہ بینک میں تھا تب تک اس کے تمام عارضی رشتے چلتے رہے افیئرز بھی چلتے رہے لیکن بعد میں جیسے ہی اس نے بینک چھوڑا تو اس کو سلام دینے والا بھی کوئی نہیں تھا سوائے اس کی بیوی کے تو اس لیئے ہر وہ شخص جو آپ سے نرم لہجے میں بات کرے، ضروری نہیں کہ وہ واقعی آپ کی فکر بھی کرتا ہو۔ آج کل بہت سے زہریلے اور جھوٹے رشتے صرف فائدے کی بنیاد پر چل رہے ہیں۔ جب تک تحفے تحائف اور توجہ یا پیسہ ملتا رہے، تعلق بھی قائم رہتا ہے۔ لیکن جیسے ہی حالات بدلتے ہیں، اکثر لوگ اپنا راستہ بدل لیتے ہیں۔ اس لیے انسان کو عارضی رشتوں اور حقیقی رشتوں کے فرق کو سمجھنا چاہیے۔
دکھاوے کی زندگی کا دباؤ
سوشل میڈیا نے موازنے اور مقابلے کی ایک نئی دوڑ شروع کر دی ہے۔ کوئی نئی گاڑی دکھا رہا ہے، کوئی مہنگا فون، اور کوئی عیش اور ارام کی مکمل طور پر طرز زندگی دکھا رہا ہے۔ لوگ اپنی محبتوں کو اپنی شادیوں کو اپنے تمام تر کاموں کو حتی کہ سہاگ رات کی آدھی سے زیادہ تقریبات کو دکھاۓ جا رہے ہیں اور لوگ دیکھ رہے ہیں۔ لوگ دوسروں کی زندگی دیکھ کر خود کو کمتر محسوس کرنے لگتے ہیں۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ اس دکھاوے کی زندگی نے اس سوشل میڈیا پر دکھاوے کی زندگی نے لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کر دیا ہے۔
اس دکھاوے کی زندگی نے کئی لوگوں کے گھر توڑ دیئے ہیں۔ اسی دباؤ میں کئی لوگ قرض لے کر بھی اپنی طرز زندگی کو کو جھوٹا اور بناوٹی امیرانہ زندگی کی طرح دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سکون دکھاوے سے نہیں، توازن والی زندگی سے آتا ہے۔ کسی کو بھی اگر امیرانہ زندگی کا طرز زندگی دکھانے کا شوق ہے تو پہلے اپنی کمائی وہاں تک پہنچاؤ آج کل کمانا ہی آپ کی زندگی ہے اگر آپ کماؤ گے نہیں تو اپ کبھی بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتے جو کچھ آپ سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں یا جو کچھ آپ لوگوں کی زندگی میں دیکھتے ہیں اپ کے اندر حسد اور دکھاوے کی زندگی کا دباؤ بڑھتا جائے گا بڑھتا جائے گا اپ قرض لیتے جاؤ گے آپ قرض کے چنگل میں جکڑتے جاؤ گے اور پھر بھی کبھی بھی سکون نہیں پا سکو گے۔ اور میں نے اس قرض کے چنگل میں جکڑے ہوئے لوگوں کو تباہ و برباد ہوتے دیکھا ہے۔
بری عادتیں اور پیسے کی بربادی
کچھ لوگ ہر مہینے سگریٹ، نشہ، جواء یا فضول عادتوں پر ہزاروں خرچ کر دیتے ہیں، کچھ لوگوں کے میں نے اس طرح بھی دیکھا ہے کہ ان کے پاس گھر کے خرچے تو ہیں نہیں گھر کے خرچے کے لیے گھر والے تنگ ہو رہے ہیں لیکن وہ ہر روز پیزا کھا رہے ہیں برگر کھا رہے ہیں ہوٹلنگ کر رہے ہیں لوگوں کے ساتھ گھوم پھر رہے ہیں لوگوں کو کھلا رہے ہیں ان کا ہر روز کا ڈنر شہر کے اچھے ہوٹل میں ہوتا ہے لیکن جب گھر کی ذمہ داریوں کی بات آئے تو مالی مشکلات یاد آ جاتی ہیں۔ اصل مسئلہ اکثر کم آمدنی نہیں بلکہ پیسے کا انتظام پیسے کو سنبھالنا پیسے کو اس کی اصل جگہ پر لگانے پلاننگ کی کمی ہوتی ہے۔ بری عادتیں انسان کا پیسہ ہی نہیں بلکہ اس کی سوچ، صحت اور مستقبل بھی خراب کر دیتی ہیں۔
دوسروں سے موازنے کی بیماری
ہر وقت دوسروں سے مقابلہ کرنا انسان کو کبھی خوش نہیں رہنے دیتا۔ دوسروں سے مقابلہ کرتے رہنے میں کبھی سکون نہیں ملتا اس زمانے میں تو ماں باپ بھی اپنے بچوں کا مقابلہ دوسروں کے بچوں سے کر رہے ہوتے ہیں حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ سماجی اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے لوگ اپنی اصل حالت بھول جاتے ہیں۔ کوئی دوست کامیاب ہو جائے تو حسد شروع ہو جاتا ہے، کوئی نئی چیز خرید لے تو ہمیں بھی فوراً چاہیے ہوتی ہے۔ حالانکہ سمجھدار انسان وہ ہوتا ہے جو اپنی زندگی کی ترجیحات خود طے کرے، نہ کہ دوسروں کی زندگی دیکھ کر فیصلے کرے۔
رشتے صرف خوبصورتی سے نہیں چلتے
آج کل لوگ اپنے تعلقات کے بارے میں مشورہ سننے کے بجائے صرف ظاہری چیزوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ خوبصورتی وقتی ہوتی ہے، لیکن اعتماد وفاداری اور ایک دوسرے کو سمجھنا وہ چیزیں ہیں جو کسی بھی شادی یا تعلق کو مضبوط بناتی ہیں۔ اگر رشتے صرف پیسے، اچھا نظر آنا یا وقتی کشش پر بنیں، تو وہ زیادہ دیر نہیں چلتے۔ کیونکہ ہر عروج کو زوال ہے۔ ہر صبح کی شام ہوتی ہے۔ اور ویسے بھی ایک مشہور مثال ہے کہ ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی۔ افسوس کی بات ہے کہ اج کل ہر چیز کو خوبصورتی کے ساتھ ہی کمپیئر کیا جاتا ہے وہ اتنا خوبصورت ہے وہ چیز اتنی خوبصورت ہے اور خاص طور سے لڑکیوں کے بارے میں لڑکیوں کے رشتوں کے بارے میں میں یہاں پہ مڈل کلاس فیملیز کی بات کر رہا ہوں۔ کیونکہ یہ چیزیں ہمارے مڈل کلاس میں بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔ لڑکی کو خوبصورت ہونا چاہیے لڑکے کو خوبصورت ہونا چاہیے حالانکہ خوبصورتی کوئی معیار ہے ہی نہیں ایمانداری معیار ہونا چاہیے اخلاص میں انا چاہیے اور اج کل تو خوبصورتی سے زیادہ پیسے کو دیکھا جاتا ہے پیسہ اور خوبصورت کو ہماری مڈل کلاس میں اپنی کمزوری بنا دیا۔
سکون آخر کہاں ملتا ہے
ہم میں سے 90 فیصد لوگوں کو یہ اچھی طرح پتہ ہے کہ اب سے صرف 20 سال پہلے یا زیادہ سے زیادہ 25 سال پہلے ہر کسی کی زندگی میں ایک ٹھہرا ہوا تھا ایک توازن تھا جتنا آمدن تھی اس سے کم خرچہ تھا لوگ اچھے سے رہتے تھے ہنستے تھے مسکراتے تھے۔ کوئی تہوار ہوتا تھا تو اس کو اچھے سے انجوائے کیا جاتا تھا۔ آج مسکراہٹیں بھی جھوٹی ہیں ہنسنا بھی جھوٹا ہے قہقہے بھی جھوٹے ہیں رشتے بھی جھوٹے ہیں سب کچھ جھوٹ پہ کھڑا کر دیا ہے اس سماج نے۔ آج انسان کے پاس پہلے سے زیادہ سہولتیں ہیں، لیکن اندرونی سکون پہلے سے کم ہے۔ شاید کم نہیں بلکہ بالکل اندرونی سکون موجود ہی نہیں ہے۔ وجہ شاید یہ ہے کہ ہم نے زندگی کو صرف پیسے، دکھاوے اور دوسروں کو متاثر کرنے تک محدود کر دیا ہے۔ حقیقت میں سکون اس وقت آتا ہے جب انسان کی زندگی میں توازن ہو، رشتوں میں خلوص ہو اور دل ہر وقت دوسروں سے موازنوں اور ۔ مقابلوں میں نہ الجھا رہے۔
آخری بات
زندگی صرف دوسروں کو متاثر کرنے کا نام نہیں۔ وقتی خوشیاں، جھوٹا اور بناوٹی طرز زندگی اور فضول خرچی شاید چند لمحوں کے لیے انسان کو اچھا محسوس کرا دیں، لیکن اصل کامیابی وہ ہے جہاں انسان اپنے گھر والوں، اپنے مستقبل اور اپنی ذہنی سکون کو اہمیت دے۔ کیونکہ آخر میں انسان کے ساتھ صرف اس کے فیصلے اور اس کے اپنے لوگ رہ جاتے ہیں۔ آج کا سب سے بڑا نشہ فاسٹ فوڈ اور موبائل سکرین پر بہت تھوڑے دورانیہ کی ویڈیوز ہیں جنہوں نے ہمیں عجیب و غریب حالات میں پہنچا دیا ہے۔ اپنے آپ کو سنبھالو اپنے سکون کو اہمیت اپنے رشتوں کو اہمیت دو۔ میں یہ نہیں کہتا کہ موبائل چلانا چھوڑ دو لیکن کم دورانیے والی ویڈیوز نے دماغ کی دہی بنا دی ہے ان پر وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے لمبے دورانیہ کی ویڈیوز دیکھو تاکہ آپ کو کنسیپٹ کلیئر ہو کسی بھی چیز کا۔ بلاگ پڑھو، مکمل لمبی ویڈیو دیکھو دماغ کو سکون دو۔ کتابیں پڑھو۔اس زمانے میں کتاب پڑھنا پچھلے زمانوں سے بہت آسان ہے۔
اپنے اندر کے ڈر کو ختم کرنے کے لیے ہمارے اس لنک پر کلک کر کے آپ ہماری دوسری تحریر پڑھ سکتے ہیں