Spread the love

کنویں کے چوہے: وہ 5 خوفناک نفسیاتی حقیقتیں جو ہمیں اندر سے کھا رہی ہیں


ایک کسان نے ایک مردہ سور ایک سوکھے کنویں میں پھینک دیا۔
بدبو پھیلی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ستر اسی چوہے اس کنویں میں جا گرے۔ آسان کھانا تھا، سب نے مل کر ضیافت اڑائی۔ لیکن جب پیٹ بھر گیا اور باہر نکلنے کی باری آئی، تب انہیں احساس ہوا کہ وہ پھنس چکے ہیں۔
دن گزرے۔ کھانا ختم ہوا۔ بھوک نے ذہن بدلا۔
اور پھر چوہوں نے ایک دوسرے کو کھانا شروع کر دیا۔
ایک مہینے بعد جب کسان واپس آیا، کنویں میں صرف ایک چوہا بچا تھا۔ آنکھیں لال، جسم زخمی، اور وہ جو پہلے تھا وہ اب نہیں رہا تھا۔ کسان نے اسے باہر نکالا اور کھیت میں چھوڑ دیا، لیکن یہ رحم نہیں تھا۔ اس لیے کہ وہ چوہا اب اناج نہیں کھاتا تھا۔ وہ اپنی ہی جنس کا شکاری بن چکا تھا۔
یہ کہانی مجھے اس لیے یاد آتی ہے کیونکہ میں ایک ذہنی صحت کے پیشے سے جڑا ہوں، اور جو لوگ میرے پاس آتے ہیں ان میں سے اکثر کا درد اس کنویں جیسا ہی ہوتا ہے۔ ظاہر کی طرف سے عام زندگی، لیکن اندر سے ایک ایسی جنگ جو کبھی بند نہیں ہوتی۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، یہ ایک گہری نفسیاتی حقیقت ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔


وہ لوگ جو میرے پاس آتے ہیں


کچھ عرصہ پہلے ایک شخص میرے پاس آیا۔ چالیس کے قریب عمر، آواز میں تھکن، آنکھوں میں وہ سنّاٹا جو رونے سے بھی آگے کی کیفیت ہوتی ہے۔
اس نے کہا: “میں زندگی سے تنگ نہیں ہوں، بس اپنوں سے تنگ ہو گیا ہوں۔”
اس نے بتایا کہ اس کے بھائی نے اس کی زمین ہتھیا لی۔ ماں نے آنکھیں بند کر لیں کیونکہ بڑے بیٹے سے لڑنا نہیں چاہتی تھیں۔ بیوی تھکی ہوئی تھی، بچے نہیں سمجھتے تھے، اور پڑوسیوں نے جب موقع ملا تو تماشا دیکھا۔ وہ اکیلا تھا، لیکن اس کے گرد لوگوں کی بھیڑ تھی۔
ایک اور خاتون آئیں، پچیس چھبیس سال کی۔ کہنے لگیں: “ڈاکٹر صاحب، میں مرنا نہیں چاہتی، بس یہ چاہتی ہوں کہ کچھ دن کے لیے سب کچھ بند ہو جائے، کوئی ضرورت نہ ہو، کوئی توقع نہ ہو۔” پوچھا تو پتہ چلا کہ اس کی سب سے بڑی تکلیف اس کی اپنی ماں کے طعنے تھے، اپنے شوہر کی بے توجہی تھی، اور وہ سہیلی جس نے اس کی راز کی بات پورے محلے میں پھیلا دی۔
یہ دونوں کنویں میں گرے ہوئے چوہوں جیسے تھے۔ اپنوں نے کھینچا، اور پھر اپنوں نے ہی نوچا۔


یہ انوکھی کہانیاں نہیں ہیں۔ جب میں اپنے کمرے میں آنے والے لوگوں کی باتیں سنتا ہوں تو ایک بات مشترک ہوتی ہے۔ تکلیف دشمنوں نے نہیں دی، تکلیف اپنوں نے دی۔ اور اپنوں کی تکلیف اس لیے زیادہ چبھتی ہے کیونکہ انسان وہاں سے اس کی توقع نہیں رکھتا۔ اور یہی وہ نفسیاتی حقیقت ہے جو ہمارے معاشرے میں ہر روز دہرائی جاتی ہے۔


نفسیاتی حقیقت نمبر ۱: جب خوف عقل کو پیچھے دھکیل دے


اصل میں ہوتا یہ ہے کہ انسانی دماغ ایک وقت میں دو طریقوں سے نہیں چل سکتا۔ یا تو وہ سوچتا ہے، یا وہ بچتا ہے۔
جب خطرہ آتا ہے تو “بچنا” جیت جاتا ہے۔
کنویں کے چوہوں نے کچھ نہیں سوچا۔ انہوں نے بس محسوس کیا، بھوک، خوف، بقا۔ اور اسی لمحے انہوں نے وہ کام کر ڈالا جو عام حال میں کبھی نہ کرتے۔
اب پاکستانی گھروں کو دیکھیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بل، بچوں کی فیسیں، گھر کا کرایہ۔ یہ سب مل کر ایک مسلسل دباؤ بناتے ہیں۔ اور جب یہ دباؤ مہینوں سے سالوں تک چلے تو انسان کا ذہن ہر وقت چوکنّا رہتا ہے، ہر طرف سے خطرہ بھانپتا رہتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھڑک اٹھتا ہے۔ قریبی لوگوں کو دشمن سمجھنے لگتا ہے۔
میں نے ایسے باپ دیکھے ہیں جو بچوں سے محبت کرتے ہیں لیکن گھر میں قدم رکھتے ہی لڑائی شروع کر دیتے ہیں۔ ایسی مائیں دیکھی ہیں جو خود نہیں جانتیں کہ وہ اتنی چڑچڑی کیوں ہیں۔ اصل میں وہ تھکی نہیں ہوتیں، وہ ڈری ہوتی ہیں۔ اور ڈرا ہوا انسان اکثر وہ لوگ ڈھونڈتا ہے جو قریب ہوں اور کمزور ہوں، کیونکہ وہاں غصہ نکالنا “محفوظ” لگتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج گھریلو جھگڑے بڑھ رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر نفرت کا جو طوفان ہے وہ تھمتا نظر نہیں آتا۔ لوگ غصے میں ہیں، بالکل غصے میں ہیں۔ لیکن غصہ جا کہاں رہا ہے، یہ سوال کوئی نہیں پوچھتا۔ جو اس نفسیاتی حقیقت کو سمجھ لے، وہ بہت سی لڑائیوں سے بچ سکتا ہے۔


نفسیاتی حقیقت نمبر ۲: تقسیم کرو اور قابو میں رکھو


کنویں کی کہانی میں کسان نے چوہوں سے کچھ نہیں کہا۔ نہ تقریر کی، نہ حکم دیا۔ اس نے بس ایک مردہ سور پھینکا اور چلا گیا۔ باقی کام چوہوں نے خود کیا۔
یہ سوچیں کتنی چالاک بات ہے۔
آج پاکستان میں پنجابی، سندھی، پختون، بلوچ، مہاجر کے نام پر جو دیواریں کھڑی ہیں، یہ نئی نہیں ہیں، لیکن انہیں آج پہلے سے زیادہ ہوا دی جا رہی ہے۔ مذہب کے نام پر فرقے، زبان کے نام پر نفرت، سیاست کے نام پر خاندانوں میں دراڑیں۔
دیکھیں مسئلہ یہ ہے کہ جب انسان کسی گروہ سے جڑ جاتا ہے تو اس گروہ کی دشمنی اس کی اپنی دشمنی بن جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ، بغیر پتہ چلے۔ اسے خود سمجھ نہیں آتا کہ کب اس نے اپنا دماغ کسی اور کے حوالے کر دیا۔
میں نے ایسے خاندان دیکھے ہیں جہاں باپ ایک سیاسی پارٹی کا حامی ہے اور بیٹا دوسری کا، اور دونوں کے درمیان کئی سالوں سے بات نہیں ہوئی۔ یہ دونوں اپنے اپنے “کنویں” میں بیٹھے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ وہی سچے ہیں۔
اوپر بیٹھے لوگ یہ دیکھ کر مطمئن ہوتے ہیں۔ انہیں کچھ نہیں کرنا۔ بس انتظار کرنا ہے۔ یہ نفسیاتی حقیقت تکلیف دہ ضرور ہے، لیکن اس سے آنکھیں چرانے سے کچھ نہیں بدلتا۔


نفسیاتی حقیقت نمبر ۳: بقا کی جنگ میں اخلاق سب سے پہلے کمزور پڑتا ہے


کنویں کے چوہے شروع میں مل کر کھانا کھا رہے تھے۔ ایک دوسرے کے دشمن نہیں تھے۔ لیکن جب حالات نے انہیں نچوڑا تو وہی ساتھی ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔
انسان بھی ایسے ہی ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ انسان کے پاس الفاظ ہیں خود کو سمجھانے کے لیے۔ “سب کرتے ہیں۔” “میرے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا۔” “یہ نظام ہی ایسا ہے، میں اکیلا کیا کروں۔”
یہ وہ جملے ہیں جو ضمیر کو خاموش کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اور بُری بات یہ ہے کہ یہ کام کرتے ہیں۔
آج جھوٹ، دھوکہ، رشوت کوئی چھپی ہوئی باتیں نہیں رہیں۔ لوگ جانتے ہیں کہ یہ غلط ہے لیکن کرتے ہیں کیونکہ نظام نے انہیں یہ باور کرا دیا ہے کہ ایمانداری سے گزارہ نہیں ہوتا۔
میں نے اپنے کام میں ایسے لوگ دیکھے ہیں جو کہتے ہیں، “میں بھی جانتا ہوں یہ غلط ہے، لیکن اگر میں نے نہیں کیا تو کوئی اور کر لے گا۔” یہ جملہ سنتے ہوئے ہر بار ایک عجیب سی بے بسی ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ شخص غلط نہیں کہہ رہا ہوتا، وہ بس کنویں کے اندر سے بول رہا ہوتا ہے جہاں سے باہر کا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔
جب یہ سوچ پھیلتی ہے تو پھر پورا ماحول بدل جاتا ہے۔ اور پھر جو ایماندار رہنا چاہے، اسے کمزور سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے کے بیشتر مسائل کی جڑ یہی نفسیاتی حقیقت ہے۔


نفسیاتی حقیقت نمبر ۴: جب کنواں ہی گھر لگنے لگے


کنویں کے آخری بچے چوہے کو باہر نکالا گیا لیکن وہ باہر رہ نہ سکا۔ کھیت میں جا کر اس نے اناج نہیں کھایا، بلکہ دوسرے چوہوں کا شکار کرنے لگا۔ کنویں نے جو اسے سکھایا تھا وہ اس کی اندرونی دنیا بن چکی تھی۔
یہ بات میں نے ایک بزرگ کے منہ سے سنی جو کچھ عرصہ پہلے میرے پاس آئے۔ ان کے گھر میں تیس سال سے لڑائی تھی، کہاسنی تھی، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا سلسلہ تھا۔ جب میں نے پوچھا کہ کیا کبھی اس سے نکلنا چاہتے تھے تو وہ لمحے بھر کو رکے اور بولے، “ڈاکٹر صاحب، اب تو یہی زندگی ہے۔ کوئی اور زندگی یاد ہی نہیں رہی۔”
وہ جملہ ابھی تک ذہن میں ہے۔
جو بچہ گھر میں تشدد دیکھ کر بڑا ہوتا ہے، وہ اکثر تشدد کو عام سمجھتا ہے۔ جو نوجوان کرپٹ ماحول میں پلا بڑھا ہو، اسے ایمانداری بیوقوفی لگتی ہے۔ یہ ان کی غلطی نہیں، یہ اس کنویں کا اثر ہے جس میں وہ پیدا ہوئے۔
اور سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جب انہیں باہر نکلنے کا موقع ملتا ہے تو وہ گھبرا جاتے ہیں۔ کیونکہ باہر کی دنیا اجنبی لگتی ہے۔ جب تک ہم اس نفسیاتی حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے، کنویں سے باہر نکلنا ممکن نہیں۔


نفسیاتی حقیقت نمبر ۵: جب انسان بھول جائے کہ وہ کون ہے


کنویں کے آخری چوہے نے اپنی شناخت کھو دی تھی۔ وہ اب وہ نہیں رہا تھا جو کبھی تھا۔
انسانوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے، لیکن اتنا آہستہ کہ خود پتہ نہیں چلتا۔
آج پاکستان میں یہی ہو رہا ہے۔ ہم پاکستانی ہیں، یہ سب مانتے ہیں، لیکن پاکستانیت کا مطلب ہر کسی کے لیے الگ ہے۔ کوئی اسے مذہب سمجھتا ہے، کوئی زبان، کوئی نسل، کوئی محض ایک نقشے پر کھینچی لکیر۔ اور ہر گروہ سوچتا ہے کہ باقی سب غلط ہیں۔
جب اجتماعی شناخت کمزور پڑتی ہے تو لوگ چھوٹی شناختوں میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ برادری، فرقہ، پارٹی، علاقہ۔ یہ چھوٹی شناختیں وقتی سکون ضرور دیتی ہیں، لیکن اصل سوال سے توجہ ہٹا دیتی ہیں کہ ہم سب آخر چاہتے کیا ہیں؟
میں نے نوجوانوں کو دیکھا ہے جو پاکستان کے بارے میں سوچ کر خوابوں سے بھر جاتے ہیں، لیکن جب ان سے صرف یہ پوچھو کہ “کیا تم اپنے محلے میں کسی کی مدد کر سکتے ہو جو تم سے مختلف ہو؟” تو خاموشی چھا جاتی ہے۔
بڑی باتیں کرنا آسان ہے۔ اپنے قریب والوں کے ساتھ انسانیت دکھانا مشکل ہے۔ اور شاید یہی سب سے تکلیف دہ نفسیاتی حقیقت ہے، کہ ہم جانتے سب کچھ ہیں، بس مانتے نہیں۔


کنویں سے باہر نکلنے کا راستہ

ی ان نفسیاتی حقیقتوں کو سمجھے بغیر نہ گھر بدلتا ہے، نہ معاشرہ۔ہ وہ نفسیاتی حقیقتیں ہیں جن سے ہم روز گزرتے ہیں لیکن کبھی رکھ کر سوچتے نہیں۔


تو کیا کوئی راستہ ہے؟
ہے۔ لیکن وہ آسان نہیں ہے۔
پہلی بات یہ ہے کہ ماننا ہوگا کہ ہم کنویں میں ہیں۔ انکار کرنا آسان ہے، “ہمارے ساتھ ایسا نہیں” یا “یہ تو دوسروں کی بات ہے۔” لیکن جب تک آئینہ سامنے نہ رکھیں کچھ نہیں بدلتا۔
دوسری بات یہ ہے کہ اپنے غصے کا رخ پہچانیں۔ ہم غصے میں ہیں، لیکن یہ غصہ اکثر پڑوسی پر، رشتہ دار پر یا کسی دوسری زبان بولنے والے پر نکلتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کنویں کو کس نے بنایا؟ مردہ سور کس نے پھینکا؟
تیسری بات یہ ہے کہ اتحاد کو نعرے سے آگے لے جائیں۔ اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ سب ایک جیسے ہو جائیں۔ اتحاد کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنے سے مختلف شخص کی بات سنوں اور یہ مانوں کہ اس کا مسئلہ میرے مسئلے سے الگ نہیں ہے۔
اور آخری بات، جو میں نے اپنے کام میں بار بار دیکھی ہے: انسانی ذہن بدل سکتا ہے۔ وہ لوگ جو بالکل ٹوٹے ہوئے میرے پاس آتے ہیں، وہی لوگ وقت کے ساتھ واپس اٹھتے ہیں۔ آہستہ، مشکل سے، لیکن اٹھتے ضرور ہیں۔ بشرطیکہ انہیں یہ یقین ہو کہ اٹھنا ممکن ہے۔


آخری بات


کسان آج بھی نیا سور پھینکنے کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بھوکے چوہے خود چلے آئیں گے۔
لیکن اس بار سوال یہ ہے: کیا ہم اس بدبو کو پہلے سے پہچان لیں گے؟
کنواں باہر سے نہیں توڑا جاتا۔ یہ اندر سے ٹوٹتا ہے، جب اس میں بند لوگ فیصلہ کریں کہ اب ایک دوسرے کو نوچنا بند کریں گے اور مل کر راستہ ڈھونڈیں گے۔
وقت ابھی ہے۔
لیکن وقت رکتا نہیں یہ اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے۔

خود کو فریب دینا بند کیجئے اور اس میں مدد کے لیے ہمارا یہ آرٹیکل پڑھیئے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top