کامیاب زندگی کے 9 اصول: کیا آپ اپنا ذہنی سکون اپنے ہاتھوں سے برباد کر رہے ہیں؟؟؟
۔صبح میرے موبائل پر آنے والی سب سے پہلی کال نے میری صبح کی تمام تر روٹین کو تہس نہس کر دیا۔ کیونکہ یہ کال میرے لیے ایک دھماکہ ثابت ہوئی۔ یہ برطانیہ کا نمبر تھا اور فون کرنے والی کوئی لڑکی تھی۔ موبائل اتفاق سے میرے ہاتھ میں موجود تھا، میں نے تجسس کے مارے کال اٹینڈ کی۔ لڑکی کی آواز آئی اور اس کا پہلا جملہ یہ تھا “کیا کامیاب زندگی میرا حق نہیں تھا” دوسرا جملہ یہ تھا “کیا میری 6 سال کی محنت مجھے کامیاب زندگی بھی نہیں دے سکتی” میں نے اس کو کہا کہ سکون سے بات کریں اپنا مسئلہ بتائیں تو اس کی بات سن کر مجھے لگا کہ ہم نے کامیاب زندگی کا مطلب صحیح طرح سمجھا ہی نہیں ہے۔ اسی ایک فون کال نے مجھے یہ بلاگ لکھنے پر مجبور کر دیا۔
کامیابی کا جعلی معیار
کیا سوچ رکھا ہے ہم سب نے بڑی ڈگری بڑا گھر بڑے پیسے بڑے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بڑے ہوٹلوں پہ جا کے کھانا کھا لینا بڑے بڑے مالز میں جا کے شاپنگ کر لینا بڑے بڑے فنکشنز میں جا کے محفل کی جان بن جانا یہ کامیابی کا معیار ہے؟؟؟
اور مڈل کلاس لوگوں نے کیا سوچ رکھا ہے اپنے کامیابی کا معیار کے ہم مہنگے کپڑے خریدیں گے مہنگے جوتے خریدیں گے مہنگی گاڑی خریدیں گے پڑوسی کو دیکھ کے اپنا سامان خریدیں گے اس نے اچھے کپڑے لیے تو ہم بھی اچھے کپڑے لیں گے یہ کہاں سے کامیابی کا معیار ہے مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی۔ کسی کا منہ سرخ دیکھ کے اپنا منہ چپیڑوں سے لال کرنا ہے کیا؟؟؟
اس بیچاری نے بھی اپنے اپ کو اسی جعلی معیار کے چنگل میں پھنسا لیا کسی کی باتوں اور اس کی زندگی کی چکا چاند سے متاثر ہو کر اپنی زندگی کے بڑے بڑے فیصلے کر لیے اور وہ فیصلے اس کو لے ڈوبے۔ اس کے پاس ڈگری تھی اس کے پاس اپنا گھر ہے اس کے پاس اپنے سورس آف انکم ہیں، لیکن کامیاب زندگی کا جو خواب تھا جو اس معاشرے نے اصول سکھایا یا جس پر اس نے اعتبار کیا اس نے سبز باغ دکھایا تباہ ہو گیا اور اپنے ذہنی سکون کو برباد کر لیا۔
وہ کامیاب زندگی کا خواب بھی تباہ ہو گیا اور اس کا ذہنی سکون بھی برباد ہو گیا۔ آج وہ ایک دماغی طور پہ بیمار لڑکی بنی بیٹھی ہے۔
لوگوں کی چکا چوند بھری زندگی اور ہمارا احساسِ کمتری
کیوں ہو رہے ہیں برباد ہم لوگوں کو دیکھ کر؟؟؟ کس لیے خود کو تکلیف دے رہے ہیں؟؟؟ کس لیے لوگوں کی زندگیوں کو دیکھ کے اپنے اصولوں کو توڑ رہے ہیں؟؟؟ اپنے آپ کو بہتر نہیں بنا رہے لیکن کامیاب زندگی کے اصول لوگوں سے لے رہے ہیں اپنے کامیاب زندگی کے اصول خود بناؤ اور خود ان پر عمل کرو۔ یہ صرف اس لڑکی کا مسئلہ نہیں تھا یہ اس دور کے 70 سے 80 فیصد جوانوں کا مسئلہ ہے۔ کامیاب زندگی کے نام پر برباد زندگی کو دیکھ رہے ہیں ہم سب۔
شاید ہمارے معاشرے میں 70 فیصد لڑکیوں کا یہی مسئلہ ہے۔ لڑکیوں کو اور خاص طور پہ آج کل کے لڑکوں کو بھی یہ لگتا ہے کہ جو کچھ وہ باہر دیکھ رہے ہیں یا ٹک ٹاک پر دیکھ رہے ہیں یا سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں یا جو نام نہاد انفلوئنسر بنے ہوئے ہیں وہ ان کو دیکھ رہے ہیں تو ان کو لگتا ہے یہی زندگی ہے اور انہی نام نہاد انفلوئنسرز کے ساتھ ان کی زندگی کی روشنی میں اپنی زندگی کو کامیاب زندگی دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس چکر میں اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں برباد کر بیٹھتے ہیں اور بڑی خوشیاں تو ملتی نہیں ہے کیونکہ یہ تو ایک سراب ہے ہوش کے ناخن لو۔
محنت اور اندرونی شکست کا فرق
محنت کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ یہ محنت ہم کر کیوں رہے ہیں؟؟؟ کیا یہ محنت ہم اپنے کامیاب زندگی کے لیے کر رہے ہیں؟؟؟ لیکن کامیاب زندگی کے لیے محنت کرتے کرتے کیا ہم اندرونی طور پر شکست کھا رہے ہیں؟؟؟ ہمارے کامیاب زندگی کا مطلب کیا ہے؟؟؟ سب سے پہلے تو اس بات کو کلیئر کریں.
کامیاب زندگی کا مطلب سب سے پہلے آپ کی صحت ہے آپ کی جسمانی صحت اور آپ کی ذہنی صحت۔ اگر آپ محنت کر کے پیسہ کما کے اتنا زیادہ پیسہ آپ کے پاس ہونے کے باوجود اپ کے جسم کے اندر جان ہی نہیں ہے تو اس پیسے کو آگ لگانی ہے؟؟؟ یا پھر آپ کا جسم ٹھیک ہے اس میں انرجی ہے لیکن آپ کا دماغ سوچوں سے باہر ہی نہیں آ رہا آپ کا دماغ پریشانیوں سے باہر نہیں آ رہا آپ کے دماغ کو سکون ہی نہیں ہے آپ کو ذہنی بے چینی ہے تو کامیاب زندگی تو گئی بھاڑ میں۔ اس معصوم لڑکی کی مجھے آواز نہیں بھول رہی اس کی آواز کا درد نہیں بھول رہا اسی لڑکی کی طرح آپ چھ سال محنت کریں آٹھ سال محنت کریں 10 سال محنت کریں آپ اپنے ملک سے باہر چلے جائیں آپ کے پاس ڈگری ہو آپ کے پاس گھر ہو آپ کے پاس گاڑی ہو اور اپ کے پاس ذہنی سکون نہ ہو تو کہاں کی کامیاب زندگی ہو گئی جناب؟؟؟
دکھاوے کی زندگی کا مکروہ کھیل
ہم لوگ زندگی گزار رہے ہیں یا ڈرامہ کے کردار پر پرفارم کر رہے ہیں؟؟؟ لوگوں کو خوش رکھنا، لوگوں کو اپنی کامیابی کے ثبوت دینا، لوگوں کے سامنے اچھا بن کے نظر انا، یہ زندگی تمہاری ہے یا لوگوں کی زندگی ہے کیا تم اس زندگی میں ایکٹنگ کرنے آئے ہو؟؟؟
وہ معصوم لڑکی جو اس وقت اتنی بے یار و مددگار ہے کہ اس کے پاس کوئی اپنا نہیں رہا کیونکہ وہ سب کے سامنے اچھا بن رہی تھی۔ وہ لڑکی یا اس جیسی کئی لڑکیاں پہلے ماں باپ کے سامنے اچھا بن کے رہتی ہیں، پھر بھائیوں بہنوں کے سامنے اچھا بن کے رہتی ہیں، پھر سسرال جا کے شوہر کے سامنے اچھا بن کے رہتی ہیں، پھر شوہر کے سارے کے سارے خاندان کے سامنے اچھا بن کے رہتی ہیں اور اس اچھا بننے کے چکر میں وہ اپنے ذہنی سکون کو برباد کر کے اپنی زندگی کو کامیاب زندگی سے ناکام زندگی بنا کے بیٹھ جاتی ہیں۔
اور یہ لڑکے مجھے ان کی نہیں سمجھ آتی ان کو بھی اچھا بننے کا جنون چڑھا ہوا ہے۔ یہ کسی اور کے سامنے اچھا بنیں یا نہیں لیکن اپنے دوستوں کے سامنے اچھا بنیں گے اپنے پیسے ضائع کریں گے اپنا وقت ضائع کریں گے اگر کسی لڑکی کے ساتھ ان کا افیئر چل گیا تو اس کے سامنے اتنا اچھا بنیں گے اتنا اچھا بنیں گے کہ ان کے جیسا سادھو دنیا میں ہے ہی کوئی نہیں۔ لیکن اپنے ذہنی سکون کو برباد کر کے بیٹھے ہوں گے۔ بعد میں سگریٹ پینا شروع کر دیں گے کچھ کے پاس پیسے ہوں گے تو وہ چرس پینا شروع کر دے گا کچھ ذرا اور پیسے والا ہوگا تو وہ شرابی ہو جائے گا اپنی زندگی خود برباد کر کے پھر کہیں گے ہمیں کامیاب زندگی نہیں ملی۔
کتنے نقاب پہن کر لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو لے کر جاتے ہو کہ لوگ آپ کو اچھا سمجھیں لوگ آپ کے بارے میں اچھی رائے رکھیں، کیوں رکھیں؟؟؟ کیا تم نے لوگوں کے سامنے اچھا نظر آنے کا یا اچھا بن کے آنے کا ٹھیکا اٹھایا ہوا ہے؟؟؟ کیا کامیاب زندگی اسی چیز کا نام ہے کہ لوگ آپ کو ٹھیک سمجھیں؟؟؟ ہمیں سب سے زیادہ ایک فقرے نے برباد کیا ہے اور وہ فقرہ یہ ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ یہ دکھاوے کی زندگی کا جو مکروہ کھیل ہے نا یہ تب ختم ہوگا جب تم لوگ خود یہ تسلیم کرو گے کہ ہمیں کسی کے سامنے کسی کے لیے اچھا بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے لیے اچھا بنو اپنے اپ کے لیے اچھا بنو۔
اپنے ہی گھر میں اجنبیت کا احساس
کتنا ظلم ہے کتنی بڑی زیادتی ہے کسی کے ساتھ یہ کرنا کہ جو انسان کامیاب زندگی کا خواب دیکھ کر آپ کے دکھائے ہوئے سبز باغ دیکھ کر آپ کے گھر آیا اور وہ اپنے ہی گھر میں اجنبیوں کی طرح بیٹھا ہو؟؟؟ لیکن رکیں اور دیکھیں اور سوچیں کہ کیا وہ لڑکی وہ معصوم لڑکی یا اس جیسی کئی لڑکیوں پر یہ ظلم کیا کس نے؟؟؟ یہ ظلم کرنے میں سب سے پہلے ہاتھ اس لڑکی کا اپنا ہے جس کے ساتھ یہ ظلم ہو رہا ہے۔ کیونکہ اس نے صحیح وقت پر قدم نہیں اٹھایا۔ خدارا خود پر ظلم کرنا بند کرو۔ اپنے گھر میں اجنبی بن کے بیٹھے ہو تو یہ تم نے خود پر خود ظلم کیا ہے۔ تم نے اپنے حق کے لیے آواز نہیں اٹھائی۔ تم نے صحیح وقت پر فیصلہ نہیں کیا۔ یہ ظلم خود پر تمہارا کیا ہوا ہے۔
اس معاملے میں لڑکے لڑکیوں سے بھی زیادہ مظلوم ہیں۔ کیونکہ پورا دن وہ مرد ہو کر کما کر گھر جاتے ہیں اور جس گھر میں وہ کما کر جا رہے ہیں وہیں پر وہ اجنبی بن کے بیٹھے ہوتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے مجھے اور افسوس ہوتا ہے کہ ہماری تربیت کہاں گئی۔
تعلیم ملی تربیت نہیں
اور ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ ہمیں اس بارے میں انفارمیشن ہی نہیں ہے کہ ہمیں کہاں پر کیا قدم اٹھانا ہے۔ ہمیں سکول میں زومبیز بنا دیا گیا ہے۔ ہمارے سکول میں ہمیں تعلیم دی گئی ہے تربیت نہیں۔ ہمیں کتابیں پڑھا دی گئی ہیں لیکن زندگی گزارنے کا ایک اصول نہیں سکھایا گیا۔ کس نے کس وقت کس سے کیا بات کرنی ہے کسی کو نہیں سکھایا گیا۔ کس نے کس وقت کس حالت میں کس سچویشن میں کون سا فیصلہ کرنا ہے کوئی استاد یا استانی نہیں سکھاتی۔ اور یہی حالت ان استاد اور استانیوں کی ہے جو ہمیں پڑھا رہے ہیں۔ خود انہی مسائل میں سے گزر رہے ہیں، ان کو خود نہیں پتہ کہ کس حالت میں کیا فیصلہ کرنا ہے کس حالت میں کیا جواب دینا ہے۔ تو وہ خود اپنے گھروں میں جب جاتے ہیں تو اجنبیوں کی طرح بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ کسی کو کیا سبق دیں گے وہ کسی کو کیا پڑھائیں گے۔ سب سے پہلے اپنے آپ کو خود پڑھنا سیکھو۔ کامیاب زندگی آپ کی منتظر ہے۔
کامیابی کے نام پر ذہنی سکون کا قتل
۔مل گئی کامیاب زندگی، مل گیا پیسہ لیکن اس کے ساتھ مل گئی راتوں کی بے خوابی، ذہنی سکون کی بربادی،کیا یہ سودا منافع والا ہے؟؟؟ ہم نے کامیاب زندگی کو اتنا کمرشلائز کر دیا ہے کہ اس میں ہماری اپنی زندگی ہی چلی جاتی ہے۔ او میرے پیارے لوگو دھیان رکھو ذہنی سکون ہی اصل کامیابی ہے باقی سب سہولیات ہیں یہ سہولیات جتنی کم ہوں جتنی زیادہ ہوں کوئی فرق نہیں پڑتا اگر آپ کے پاس ذہنی سکون ہے تو آپ کامیاب زندگی گزار رہے ہو۔ اور جب یہ بات سمجھ آ جائے گی آپ کو تبھی پتہ چلے گا کہ اصل زندگی کیا ہوتی ہے۔ میری ان باتوں سے بہت سے لوگ اختلاف کریں گے کہ پیسہ ہو تو سب کچھ ہوتا ہے، پیسہ ہو تو سب کچھ ہوتا ہے، پیسہ، پیسہ، پیسہ ہو رہا ہے دنیا میں، واقعی صحیح بات ہے پیسہ ہو تو بہت کچھ ہوتا ہے لیکن پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا۔ وہ لڑکی جو مجھے کال کر رہی تھی اور تڑپ رہی تھی اور اس جیسی کئی لڑکیاں اور کئی مرد حضرات جن کے پاس بہت پیسہ ہے یقین کرو ان کے پاس ذہنی سکون نہیں ہے۔ یقین کرو پاکستان کے بڑے بڑے امیر لوگ رات کو کھانا کھا کے نہیں سوتے نیند کی گولی کھا کے سوتے ہیں۔یقین کرو دنیا کے بڑے بڑے امیر لوگ کھانا نہیں کھا سکتے وہ لوگ جو غذا لیتے ہیں وہ مائع کی فارم میں ہوتی ہے۔ یقین کرو بہت زیادہ پیسے والے لوگ جن کو دنیا والے کامیاب زندگی کی مثالیں سمجھتے ہیں وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے ذاتی کام کرنے کے بھی قابل نہیں ہوتے۔ جو نعمتیں تمہارے پاس ہیں ان کی قدر کرو اور اپنے ذہنی سکون کے قاتل مت بنو۔
اندرونی کھوکھلا پن: ایک تلخ حقیقت
تم لوگ خود کو کھوکھلا کر رہے ہو، تمہارا جسم آہستہ آہستہ کھوکھلا ہو رہا ہے۔ اور کامیاب زندگی کے حصول کے لیے جو اصول اس وقت دنیا میں چل رہے ہیں یہ ہمارے معاشرے میں ہمیں بتائے جا رہے ہیں بالکل عجیب و غریب ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تم کھوکھلے ہو رہے ہو۔ صرف ایک کام کرو ایک جگہ بیٹھو اور سوچو کہ اب سے دس سال پہلے تمہارے ذہن میں کتنا سکون تھا کتنا اطمینان تھا اب سے دس سال پہلے تم کتنے ریلیکس تھے کیا اب تم اس دنیا کے باہر رہنے لگ گئے ہو؟ جی نہیں ایسی بات نہیں ہے بات صرف اتنی ہے کہ تم نے وہ کرنا شروع کر دیا ہے جو تمہارا دل نہیں مانتا جو تمہارا دماغ نہیں مانتا تم نے اپنے ذہنی سکون کو برباد کر دیا ہے تم نے خود کو تباہ و برباد کر لیا ہے صرف کامیاب زندگی کے حصول کے لیے اور وہ کامیاب زندگی کا حصول کی قیمت تم نے اپنے ذہنی سکون کو تباہ کر کے دی ہے۔ وہ لڑکی ایک اچھی زندگی جیتے جیتے اچانک سے کسی کی باتوں میں سبز باغ دیکھنے لگ گئی اور اس کے کیے ہوئے فیصلے اپنی زندگی پہ لاگو کر لئے اب اس کے پاس دنیا کی ہر سہولت موجود ہے لیکن اس کا اپنا دل اس سے دور ہو چکا اس کا اپنا دماغ اس کا ساتھ نہیں دیتا۔ وہ مجھے بتا رہی تھی کہ بیٹھے بیٹھے اس کے دماغ میں ایسا خلل آتا ہے کہ اس کی انکھوں کے اگے اندھیرا چھا جاتا ہے اسے پتہ نہیں چلتا کہ وہ رو رہی ہے یا ہنس رہی ہے کتنی تکلیف دہ حالت ہے۔ اسی طرح ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ برباد ہو گئے کسی کی باتوں میں آ کر۔ بہت سے لوگوں کی زندگی میں یہ خلا آچکا ہے۔ خود کو پہچاننا اور اپنی روح کو سکون دینا ہی اس خلا کا علاج ہے۔
اپنی زندگی خود برباد کرنے کا اعتراف
ایک مشورہ دوں؟؟ لوگوں کو مفت مشورہ اچھا نہیں لگتا لیکن پھر بھی میں دیتا ہوں۔ سب سے پہلے اپنے گناہوں کا ذمہ دار خود کو مانو۔ حالات کو ذمہ دار مت بناؤ۔ قسمت کو ذمہ دار مت بناؤ۔ تم لوگ اپنی خوشی سے خود کشی کر رہے ہو۔ یہ کرنا بند کرو۔ تمہاری عادتیں تمہارے فیصلے تمہاری بربادی کے ذمہ دار ہیں تمہاری کامیاب زندگی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تم خود ہو۔ یہ اعتراف میں نے اس لڑکی سے فون پر کروایا ہے پہلے سیشن میں۔ اور یہ کوئی کمزوری نہیں ہے یہ بہت بڑی ہمت اور طاقت کا کام ہے۔ خود ذمہ داری لو گے تو آگے بڑھو گے۔ اس لڑکی نے صرف اتنا بولا ہے کہ مجھے اس دماغی بے چینی اور ڈپریشن کے جہنم سے نکلنا ہے۔ اور جب کوئی یہ فیصلہ کر لیتا ہے نا اور پھر اس فیصلے پر پہرا دیتا ہے اس پر قائم رہتا ہے تو کامیاب زندگی مل ہی جاتی ہے ذہنی سکون مل ہی جاتا ہے۔
کامیاب زندگی کی ایک نئی اور سچی تعریف
سب سے پہلے جو معاشرے نے تمہیں اصول بتائے ہیں کامیابی کے اور کامیاب زندگی کے ان کو چھوڑ دو۔ پیسہ کماؤ لیکن پیسے کمانے کو کامیابی مت سمجھو۔ بڑے بڑے لوگوں میں بیٹھو لیکن ان کے درمیان بیٹھنے کو کامیابی مت سمجھو۔ بڑے ہوٹلز میں کھانا کھاؤ بڑی بڑی باتیں کرو برینڈڈ سوٹ پہنو جو مرضی کرو لیکن کسی بھی چیز کو کامیابی نہیں سمجھنا کسی سہولت کو کامیابی نہیں سمجھنا کامیابی صرف وہ ہے جو تم نے صرف اپنے لیے کی اپنی خوشی کے لیے حاصل کیا وہ کامیابی ہے۔ خود سے خوش رہنا کامیابی ہے، خود کو خوش کرنا کامیابی ہے، اپنے لیے وقت نکالنا کامیابی ہے، اپنی حدود میں رہ کر جینا کامیابی ہے، اپنی حدود کو بہتر کرنا کامیابی ہے، لوگوں کو اپنی حدود میں داخل نہ ہونے دینا کامیابی ہے، زہریلے رشتوں سے دور رہنا کامیابی ہے، زہریلے لوگوں سے دور رہنا کامیابی ہے، تمہارا ذہنی سکون کامیابی ہے، تمہارے دل میں اطمینان کامیابی ہے، تمہاری انکھوں کی چمک تمہاری کامیابی ہے، تمہاری سانسوں کی مہک تمہاری کامیابی ہے، تمہارے جسم کی پھرتی تمہارے کامیابی ہے۔ تمہاری صحت برقرار رہنا اور صحت کو بہتر کر لینا تمہاری کامیابی ہے۔ تمہارا ذہنی سکون اور ڈپریشن سے دوری تمہاری کامیابی ہے۔ کامیابی وہ ہے جس کے بعد تمہیں یہ نہ پوچھنا پڑے کہ کیا یہ تمہارا حق تھا بلکہ سکون سے یہ کہو کہ یہ میری زندگی ہے اور اسے میں اپنے اصولوں پر اپنے طریقوں پر اور اپنی حدود میں جی رہا ہوں۔
میری کامیابی اور میری کامیاب زندگی پر صرف میرا حق ہے یا جو کوئی ہمارے دل کے بہت پیارا ہے اور ہمیں اپنے دل کے بہت قریب رکھتا ہے حقیقت والا قریب رکھتا ہے اس کے لیے بھی تو جینا چاہیے نا؟؟؟
ان اصولوں کو بدل ڈالو جو تمہیں دوسروں کے تابع فرمان رکھتے ہیں۔ اللہ نے تمہیں آزاد پیدا کیا ہے۔
اختتام
اس لڑکی کی کال نے اور اس لڑکی کی باتوں نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا اور یقینا اس کال کے بعد ہی میں نے یہ آرٹیکل لکھنا اور آپ لوگوں سے شیئر کرنا بہتر سمجھا مناسب سمجھا یہ دل کی بھی آواز ہے اور میرا پروفیشن بھی۔ اپنی زندگی کے اصول خود بناؤ یہ میرا آپ سب کو مشورہ ہے۔ اگر کوئی ایک انسان بھی اس آرٹیکل کو پڑھنے کے بعد اپنی کامیاب زندگی کی طرف صرف ایک قدم بھی اٹھا لے گا تو میرا مقصد پورا ہو جائے گا۔
۔
اگر آپ بھی ایسی کسی حالت یا کشمکش میں ہے جہاں پر آپ کو مدد کی ضرورت ہے تو آپ ہم سے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ آپ کمنٹ کر کے بھی رابطہ کر سکتے ہیں میں آپ کا ہر کمنٹ پڑھوں گا اور اس کا جواب بھی دوں گا۔
Pingback: ذہنی سکون کا اصل راز: یہ 5 لاجواب چھوٹی خوشیاں دل کو زندہ رکھتی ہیں