کیا نیکی واقعی طاقت ہے؟ فریڈرک نطشے کے 5 باغی خیالات جو آپ کو سوچنے پر مجبور کر دیں گے
ہمارے محلے میں ایک بزرگ رہتے تھے جو ساری زندگی یہی کہتے رہے، لوگ کیا کہیں گے۔ کپڑے وہی پہنے جو لوگ پسند کریں، نوکری وہی کی جو لوگوں کو اچھی لگے، حتیٰ کہ شادی کا فیصلہ بھی اسی ترازو میں تولا۔ ایک دن میں نے ان سے پوچھا، چچا آپ کی اپنی خواہش کیا تھی؟ وہ تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر بولے، یہ سوال تو میں نے کبھی خود سے پوچھا ہی نہیں۔
مجھے آج بھی وہ خاموشی یاد ہے۔ ایک ایسے انسان کی خاموشی جس نے ساٹھ برس دوسروں کی منظوری میں گزار دیے، اور آخر میں اسے خود معلوم نہیں تھا کہ اس کی اپنی پسند کیا تھی۔
یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے فریڈرک نطشے یاد آیا۔ ایک جرمن فلسفی جس نے سوا سو سال پہلے یہی سوال پوری انسانیت سے پوچھا تھا، کیا تمہاری اقدار واقعی تمہاری اپنی ہیں، یا کسی اور کی بنائی ہوئی زنجیریں جنہیں تم نے نیکی کا نام دے دیا ہے۔

فریڈرک نطشے کون تھا
فریڈرک نطشے انیسویں صدی کا وہ جرمن فلسفی تھا جس نے لوگوں کو سکون نہیں بلکہ بے چینی دی، اور شاید یہی اس کی اصل خدمت تھی۔ وہ ایک پادری کے گھر پیدا ہوا، مذہبی ماحول میں پلا بڑھا، اور پھر اپنی ہی زندگی میں ان تمام عقائد سے سوال کرنے لگا جو اسے بچپن میں سچ کے طور پر سکھائے گئے تھے۔ اس نے مذہب، اخلاقیات اور انسانی فطرت پر ایسے سوال اٹھائے جو آج بھی دل میں کانٹے کی طرح چبھتے ہیں۔
اس کی زندگی خود بھی آسان نہیں تھی۔ بیماری، تنہائی اور لوگوں کی عدم پذیرائی نے اسے گھیرے رکھا، مگر اس کی تحریریں آج، اس کی موت کے ایک صدی سے زیادہ بعد، پہلے سے زیادہ پڑھی جا رہی ہیں۔ آج اسی فریڈرک نطشے کے پانچ خیالات پر بات کرتے ہیں۔
طاقتور کی اخلاقیات، کمزور کی اخلاقیات
فریڈرک نطشے کہتا تھا کہ دنیا میں دو طرح کی اخلاقیات چلتی رہی ہیں، اور دونوں کا جنم ایک ہی سوال سے ہوا، طاقت کس کے پاس ہے۔
طاقتور کی اخلاقیات
یہ ان لوگوں کی سوچ ہے جو خود کو بااعتماد سمجھتے ہیں، جن کے نزدیک بہادری، خود اعتمادی اور آگے بڑھنا ہی نیکی ہے۔ ایسا انسان اپنے فیصلوں کی ذمہ داری خود اٹھاتا ہے، نہ معافی مانگتا ہے نہ منظوری ڈھونڈتا ہے۔
کمزور کی اخلاقیات
یہ ان کی سوچ ہے جو خود کو دبا ہوا محسوس کرتے ہیں، جن کے نزدیک عاجزی، خاموشی اور برداشت ہی سب سے بڑی خوبی بن جاتی ہے۔ نطشے کہتا تھا کہ یہ خوبیاں اکثر اصل میں خوبیاں نہیں بلکہ بے بسی کا دوسرا نام ہوتی ہیں، جنہیں وقت کے ساتھ نیکی کا لبادہ پہنا دیا گیا۔
مجھے یہ بات اپنے اسی بزرگ چچا میں نظر آئی۔ ان کی خاموشی کو سب نیکی سمجھتے تھے، حالانکہ وہ خاموشی کبھی کبھار صرف خوف تھی، اور خوف کو نیکی کا نام دینا، یہی وہ کھیل ہے جو نطشے بے نقاب کرنا چاہتا تھا۔

ایک کہانی
کچھ عرصہ پہلے میرے پاس ایک لڑکی آئی۔ عمر کوئی پچیس چھبیس برس۔ بیٹھتے ہی اس نے کہا، میں نے زندگی میں کبھی کوئی فیصلہ اپنی مرضی سے نہیں کیا۔
اس نے بتایا کہ کالج میں جس مضمون سے دل لگاؤ تھا وہ نہیں پڑھ سکی کیونکہ گھر والوں نے کہا یہ فیلڈ ٹھیک نہیں۔ جس لڑکے کو پسند کرتی تھی اس کا ذکر تک نہیں کیا کیونکہ خاندان میں رشتہ پہلے سے طے ہو چکا تھا۔ شادی کے دن تک وہ یہی سوچتی رہی کہ شاید وقت کے ساتھ دل لگ جائے، شاید ماں باپ کی خوشی میں اپنی خوشی بھی مل جائے۔
ایسا نہیں ہوا۔ کچھ برس بعد وہ طلاق لے چکی تھی، اور اب وہ میرے پاس ذہنی دباؤ اور اپنی شناخت کھو جانے کے احساس کے ساتھ سیشن کے لیے آتی ہے۔ ایک دن اس نے جو جملہ کہا وہ میں کبھی نہیں بھولوں گا، مجھے نہیں معلوم میں کون ہوں، مجھے ہمیشہ بتایا گیا میں کیا بنوں۔
یہ سن کر مجھے دوبارہ نطشے یاد آیا۔ وہی کمزور کی اخلاقیات جس کا ذکر اوپر ہوا، عاجزی، فرمانبرداری، اپنی خواہش کو دبا کر دوسروں کی پسند پر چلنا، یہ سب کچھ اس کے گھر والوں کی نظر میں نیکی تھا۔ مگر اس نیکی کی قیمت اس لڑکی نے اپنی ذہنی صحت اور اپنی شادی سے چکائی۔
میں یہاں یہ نہیں کہہ رہا کہ ماں باپ کی بات نہ مانی جائے، یا ہر فیصلہ خود غرضی سے کیا جائے۔ بات صرف اتنی ہے، اور یہی نطشے بھی کہتا تھا، کہ جس لمحے انسان اپنی مرضی سے دستبردار ہو کر صرف اس لیے ہاں کہتا رہے کہ انکار مشکل لگتا ہے، وہ خاموشی کسی نہ کسی دن جسم یا ذہن میں واپس آتی ہے۔

اخلاقیات کہاں سے آئیں
فریڈرک نطشے نے اپنی کتاب جینیالوجی آف مورلز میں ایک عجیب سوال اٹھایا۔ کیا اچھائی اور برائی ہمیشہ سے ایسی ہی تھیں، یا انہیں کسی نے، کسی وقت، کسی مقصد کے تحت گھڑا تھا۔
اس کا جواب تھا کہ ہماری بہت سی نام نہاد نیکیاں دراصل اس وقت کے کمزور طبقوں کی ایجاد ہیں جو طاقتوروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے، تو انہوں نے طاقت کو ہی برا قرار دے دیا۔ جو لوگ بدلہ نہیں لے سکتے تھے انہوں نے معافی کو نیکی بنا دیا۔ جو لوگ آگے نہیں بڑھ سکتے تھے انہوں نے قناعت کو فضیلت بنا دیا۔
یہ سن کر پہلے غصہ آتا ہے، پھر ایک عجیب سی شرمندگی، کیونکہ سچ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر اپنی بہت سی اقدار پر کبھی سوال ہی نہیں اٹھاتے۔ ہم وہی مانتے چلے جاتے ہیں جو ہمیں وراثت میں ملا، بغیر یہ پوچھے کہ یہ وراثت ہمارے فائدے میں ہے یا کسی اور کے۔
ول ٹو پاور، طاقت کی پیاس
نطشے کا سب سے مشہور خیال ول ٹو پاور ہے، اور لوگ اسے اکثر غلط سمجھتے ہیں۔ یہ دوسروں کو دبانے کی بات نہیں۔ یہ اس آگ کی بات ہے جو ہر انسان کے اندر ہوتی ہے، جو اسے آج سے بہتر کل کی طرف دھکیلتی ہے۔
وہی آگ جو ایک طالب علم کو رات گئے تک کتاب کھولے رکھتی ہے۔ وہی آگ جو ایک ماں کو روز نئے سرے سے اٹھنے پر مجبور کرتی ہے، چاہے رات بھر نیند پوری نہ ہوئی ہو۔ وہی آگ جو ایک شخص کو ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑا کر دیتی ہے، جب ہر کوئی اسے بیٹھ جانے کا مشورہ دے رہا ہو۔
نطشے کے فلسفے کا خلاصہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ انسان وہی بنتا ہے جس بننے کی وہ کوشش کرتا ہے۔ یہ بات سننے میں آسان لگتی ہے، مگر اس پر عمل مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے، کیونکہ کوشش کرنے کے لیے پہلے یہ جاننا پڑتا ہے کہ تم بننا کیا چاہتے ہو، اور یہی سب سے مشکل سوال ہے۔
ریوڑ کی ذہنیت
نطشے کو سب سے زیادہ غصہ اس بات پر آتا تھا کہ لوگ سوچنا چھوڑ کر بھیڑ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ آج کے دور میں یہ بات اور بھی صاف نظر آتی ہے۔
ہم ٹرینڈ دیکھتے ہیں اور رائے بنا لیتے ہیں۔ کسی پوسٹ پر ہزار لائیک دیکھتے ہیں اور مان لیتے ہیں یہی سچ ہوگا۔ کسی پراڈکٹ کو سب خرید رہے ہوں تو ہم بھی خرید لیتے ہیں، چاہے ہمیں اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ کسی رائے پر سب تالیاں بجا رہے ہوں تو ہم بھی بجا دیتے ہیں، اس سے پہلے کہ اپنے دل سے پوچھیں کہ ہم واقعی اس سے متفق ہیں یا نہیں۔
نطشے یہی پوچھتا تھا، کیا یہ تمہاری اپنی رائے ہے، یا تم نے بس بھیڑ کے پیچھے دوڑنا سیکھ لیا ہے۔ اور یہ سوال صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں۔ یہ اس وقت بھی ہوتا ہے جب ہم کیریئر کا انتخاب صرف اس لیے کرتے ہیں کہ خاندان میں سب وہی کر رہے ہیں، یا شادی صرف اس لیے کر لیتے ہیں کہ اب عمر ہو گئی ہے اور لوگ پوچھنے لگے ہیں۔

اچھائی اور برائی سے آگے
اپنی کتاب بیانڈ گڈ اینڈ ایول میں فریڈرک نطشے نے کہا کہ زندگی کو صرف دو خانوں میں بانٹنا ممکن نہیں۔ کبھی ایک سخت فیصلہ بعد میں رحمت ثابت ہوتا ہے، کبھی ایک نیک نیتی نقصان دے جاتی ہے۔
ایک رشتہ جسے ختم کرنا ظلم لگتا ہے، اکثر دونوں طرف کے لیے رحمت بن جاتا ہے۔ ایک نوکری چھوڑنا بزدلی لگتا ہے، مگر کبھی یہی فیصلہ زندگی بچا لیتا ہے۔ زندگی اتنی سادہ نہیں جتنی ہم اسے بنانا چاہتے ہیں، اور نطشے یہی چاہتا تھا کہ ہم ہر معاملے کو اس کے سیاق و سباق میں دیکھیں، نہ کہ تیار شدہ اصولوں کے سانچے میں۔
نطشے پر تنقید
یہ سب کہنے کے باوجود نطشے کے خیالات بے ضرر نہیں۔ اس پر سب سے بڑی تنقید یہی ہے کہ اس کی سوچ میں ہمدردی اور کمزوروں کا خیال کم نظر آتا ہے۔ بیسویں صدی میں کچھ لوگوں نے اس کے الفاظ کو غلط رنگ دے کر ظلم کا جواز بنانے کی کوشش بھی کی، حالانکہ نطشے کا اصل پیغام ظلم نہیں بلکہ خود آگاہی تھا۔
اس کی تحریر کو سمجھتے وقت یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ وہ کسی کو زبردستی کا حق نہیں دیتا، بلکہ ہر انسان سے یہ پوچھتا ہے کہ تم اپنی زندگی پر کتنی ذمہ داری لیتے ہو۔ نقاد ٹھیک کہتے ہیں کہ یہ سوچ سب کے لیے آسان نہیں، خاص طور پر ان کے لیے جو واقعی کمزور حالات میں جی رہے ہوں۔ مگر یہی بحث نطشے کو آج تک زندہ رکھے ہوئے ہے۔
آخری بات
میں نطشے کی ہر بات سے متفق نہیں، اور شاید آپ بھی نہ ہوں۔ لیکن جس دن سے میں نے اپنے چچا سے وہ سوال پوچھا تھا، اس دن سے میں اپنی ہر رائے کو ایک بار ضرور ٹٹولتا ہوں، یہ میری اپنی ہے یا کسی اور کی دی ہوئی۔ فریڈرک نطشے کی اصل میراث یہی سوال ہے، اور یہ سوال آج بھی اتنا ہی تکلیف دہ ہے جتنا سوا سو سال پہلے تھا۔
شاید فریڈرک نطشے کا مقصد لوگوں کو نیکی چھوڑنے کا مشورہ دینا نہیں تھا، بلکہ یہ پوچھنا تھا کہ جو چیز ہم نیکی سمجھتے ہیں، کیا ہم نے اسے خود چنا ہے یا صرف وراثت میں قبول کر لیا ہے۔ اس کے خیالات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے سوالات سے فرار مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک صدی گزرنے کے باوجود نطشے آج بھی زندہ محسوس ہوتا ہے۔